کبھی سوچا نہیں تھا کہ اپنے ملک نیوزی لینڈ کے خلاف حکمت عملی بناؤں گا: مائیک ہیسن
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ اگرچہ میرا تعلق نیوزی لینڈ سے ہے، لیکن اس وقت میرا دل مکمل طور پر پاکستان کے ساتھ دھڑک رہا ہے اور میں قومی ٹیم کی کامیابی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔
ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر 8 مرحلے میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ سے قبل کولمبو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا کہ سلمان علی آغا نے بوتل اس لیے نہیں پھینکی کہ وہ مجھ سے بات کے دوران غصے میں تھے بلکہ اس اقدام کی اصل وجہ خواجہ نافع کے آؤٹ ہونے کے موقع پر پیدا ہونے والا جذباتی ردِ عمل تھا۔
مائیک ہیسن نے کہا کہ بابر اعظم کو پاور پلے کے ابتدائی اوورز میں اپنی بیٹنگ کے اسٹرائیک ریٹ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ گزشتہ مقابلوں میں ان کا اسٹرائیک ریٹ 100 سے کم رہا، جو ٹیم کی موجودہ حکمت عملی کے مطابق نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو فنشر کا کردار زیادہ مؤثر انداز میں نبھا سکتے ہیں، اس لیے بابر کو اپنی بیٹنگ کے انداز میں تبدیلی کرتے ہوئے ٹیم کی مجموعی حکمت عملی کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہوگا۔
ہیڈ کوچ نے اعتراف کیا کہ گرین شرٹس کی جانب سے پاکستان کی کوچنگ کرنا ایک نیا اور منفرد تجربہ ہےن کیونکہ اس سے قبل انہوں نے کبھی اپنے ہی ملک کے خلاف کسی ٹیم کے لیے حکمت عملی نہیں بنائی تھی۔
مائیک ہیسن نے مزید کہا کہ سات سال تک نیوزی لینڈ کی کوچنگ کرنے کے بعد اب وہ اس چیلنج کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں سے بات چیت اور ناشتے کی میز پر مل کر ان سے تعلقات قائم کرنا ان کے لیے خوشگوار تجربہ رہا۔
ہیڈ کوچ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ آج بھی دل سے نیوزی لینڈر ہیں، لیکن اس وقت ان کی مکمل وابستگی اور توجہ پاکستان کے کرکٹرز اور ٹیم کی کامیابی پر مرکوز ہے۔
خیال رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے کا پہلا مقابلہ آج پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کولمبو کے آر پریماداسا اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جس کے نتیجے میں دونوں ٹیموں کی کارکردگی اور حکمت عملی پر عالمی سطح پر گہری نظریں مرکوز ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مائیک ہیسن نے نیوزی لینڈ حکمت عملی ہیڈ کوچ ٹیم کے ٹیم کی کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔