مادری زبانوں کاعالمی دن آج
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
مکوآنہ (این این آئی)پاکستان سمیت دنیا بھر میں مادری زبانوں کا عالمی دن(آج) 21فروری کو منایا جائے گااس دن کے منانے کا مقصد مادری زبانوں کی اہمیت اور ضرورت کو اجاگر کرنا ہے۔اس دن کی مناسبت سے دنیا بھر کی طرح پاکستان بھر میں بھی مذاکرے،سیمینارز اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی مختلف تقاریب سے خطاب کے دوران ماہرین لسانیات،دانشور اور مقررین مادری زبان کے حوالے سے لیکچر دیں گے جبکہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے بھی مادری زبانوں کے حوالے سے خصوصی پروگرام شائع اور نشر کیے جائیں گے۔اقوام متحدہ کے زیر اہتمام پاکستان سمیت دنیا بھر میں 1999ء سے مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ایک رپورٹ کے مطابق سندھی، سرائیکی، پنجابی،بنگالی،پشتو،بلوچی اور براہوی پاکستان کی قدیم ترین زبانیں ہیںپاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پنجابی ہے جسی48فیصد افراد بولتے ہیں،سندھی12فیصد،سرائیکی10فیصد،پشتو،اردو اور انگریزی 8،8فیصد، بلوچی3فیصد، ہندکو 2 فیصد جبکہ براہوی زبان ایک فیصد لوگ استعمال کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔