Express News:
2026-06-02@20:44:21 GMT

لینن، مارکس، میڈیا اور صہیونی اسرائیل!

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

لینن کا کہنا تھا کہ جن ملکوں میں چھاپے خانے اورکاغذ کے ذخیرے سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہیں وہاں آزادی صحافت کا مطلب صرف یہ ہے کہ سرمایہ داروں کو اپنے نظام کے حق میں پروپیگنڈے کی آزادی ہے۔ جہاں تک غریبوں، مزدوروں اورکسانوں کا تعلق ہے وہ اپنی آواز دوسروں تک نہیں پہنچا سکتے کیونکہ ان کے پاس نہ چھاپے خانے ہیں، نہ کاغذ کے ذخیرے اور نہ اتنا پیسہ موجود ہے کہ یہ چیزیں سرمایہ داروں سے خرید سکیں۔

کارل مارکس نے بھی کچھ اسی قسم کے حقائق سے آگہی کے بعد میڈیا کے اس پہلو پر سخت تنقید کی، کارل مارکس کے یہ خیالات  ’’ ذرائع ابلاغ کا مارکسی نظریہ‘‘ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔کارل مارکس کا کہنا ہے کہ دنیا میں سرمایہ داری کا نظام ایک ظالمانہ نظام ہے جس میں سرمایہ دار طبقہ، عام طبقے کا استحصال کرتا ہے اور میڈیا اس کا بھرپور ساتھ دیتا ہے۔ کارل مارکس کا خیال ہے کہ سرمایہ دار اس قدر مضبوط ہیں کہ میڈیا ان کے خلاف کچھ نہیں کرتا اور نہ ہی کچھ کرسکتا ہے بلکہ وہ سرمایہ داروں کی فرماں برداری کرتا ہے۔

کارل مارکس کا یہ بھی کہنا ہے کہ میڈیا کے مشتملات (contents) کو سرمایہ دار طبقہ اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے، میڈیا اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے مگر حقیقت میں میڈیا سیاسی، معاشی اور معاشرتی مشتملات میں سرمایہ دارانہ طبقے کے زیر اثر ہے، چنانچہ میڈیا ایک ایسی سوچ کو بڑھاتا ہے جس سے استحصالی نظام کو تقویت ملتی ہے۔ مارکس کے ان نظریات کے بعد جدیدی مارکسی (Neo-Marxist) نے بھی میڈیا پر تنقید کی اور میڈیا کے بعض پہلوؤں پر اور بھی سخت تنقید کی ہے۔ جدید مارکسی گروپ نے برطانیہ میں ٹریڈیونین کی عوام میں مقبولیت کم ہوجانے کی وجہ جاننے کے لیے ایک تحقیق کی۔ اس تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ٹریڈ یونین کی عوام میں مقبولیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ میڈیا پر جانبدارانہ انداز میں پیش کی جانے والی خبریں تھیں۔

اسی طرح Therodore adnono  اور  Max Horkheimer  کے مطابق دنیا میں جو روشن خیالی پیدا ہونی تھی، اس کو ذرائع ابلاغ نے اپنی روش سے یک طرفہ بربریت میں بدل ڈالا۔ ان کے خیال کے مطابق ذرائع ابلاغ مخالفانہ رائے کو دبا دیتے ہیں، مارشل میکلو ہنی میڈیا کے کردار کے متعلق اپنی کتاب ’’انڈراسٹینڈنگ میڈیا، دی ایکسٹینشن آف مین‘‘ میں لکھتا ہے کہ آج کی دنیا میں لسانی اور سماجی جبریت سے بھی بڑا جبر یہ ٹیکنالوجی ہے، مزید آگے وہ لکھتا ہے کہ ذرائع ابلاغ پر جو خیالات اور طریقے ہائے وغیرہ نمایاں جگہ پالیتے وہی افراد اور معاشرے پر غلبہ بھی حاصل کر لیتے ہیں، یوں میڈیا جس نظر سے دنیا کو دکھانا چاہتا ہے لوگ اسی نظر سے دنیا کو دیکھتے ہیں۔

یہ خیالات ماضی کی نامور شخصیتوں کے تھے، لیکن اہم سوال یہ ہے کہ میڈیا کی آج کیا صورتحال ہے؟ جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں نہ صرف میڈیا کی آزادی کی بات بھی کی جاتی ہے اور ہیومن رائٹس کی بھی بات کی جاتی ہے۔ اس سوال کا جواب موجودہ دورکا ’’ غزہ‘‘ اور اسرائیل ہے۔

غزہ میں جوکچھ ہورہا ہے۔ اس کی تمام تر خبریں میڈیا پر نہیں آرہی ہیں اور دنیا بھرکا ’’مین اسٹریم میڈیا‘‘ جس طرح اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے، اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ ماضی کی مذکورہ بالا شخصیات کے میڈیا کے بارے میں جو خیالات تھے، اب بات اس سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ محض ایک چھوٹے سے ملک اسرائیل نے سی این این، بی بی سی جیسے بڑے میڈیا اداروں کو بھی اپنی مٹھی میں لیا ہوا ہے، دنیا بھر کا میڈیا غزہ میں ہونے والے مظالم کی آدھی تصویر بھی پیش نہیں کر رہا ہے۔

چنانچہ غزہ کے لوگوں نے از خود میڈیا کا یہ محاذ سنبھال لیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں اسرائیل کے ظلم و ستم کو پہنچایا جس سے عالمی سطح پر اسرائیل اور اس کے دوستوں کی نہ صرف سخت بدنامی ہوئی بلکہ سخت عوامی ردعمل بھی سامنے آیا، مغربی ممالک میں عوام کا سمندر سڑکوں پر نظر آتا ہے، جو اپنی اپنی حکومتوں پر زور ڈال رہے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون فورا ختم کیا جائے۔حالیہ خبروں کے مطابق برطانوی صحافی اور کارکن سمیع حمدی نے الجزیرہ نیٹ ورک (قطر) پر 7 فروری 2026 کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ صہیونی ادارہ‘‘ کو سوشل میڈیاخریدنے پر مجبورکیا گیا کیونکہ سوشل میڈیا پر فلسطین کے حامی صارفین نے، فلسطینی مقبولیت کو اسرائیل سے کہیں زیادہ کردیا تھا۔

امریکی اب مین اسٹریم ذرائع ابلاغ جیسے CNN یا The New York Times پر انحصار نہیں کرتے ہیں بلکہ اس کے بجائے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے خبریں حاصل کرتے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو خریدا اور صہیونی خاتون باری ویسbari weiss،کو CBS کے سربراہ پر رکھا گیا تاکہ امریکی عوام تک معلومات کے بہاؤکوکنٹرول کیا جاسکے ،اور غزہ سے متعلق خبروں کو روکا جا سکے۔ ان اقدامات کی وجہ سے 2 سے 30 لاکھ امریکیوں کو نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم UpScrolled پر منتقل ہونا پڑا۔‘‘

درحقیقت اسرائیل عالمی میڈیا کو اپنے نہ نظر آنے والے دباؤ میں لے چکا ہے۔ بظاہر میڈیا آزاد نظر آتا ہے مگر وہ اسرائیل کے لیے ہر قسم کے پروپیگنڈے کی خدمات انجام دے رہا ہے۔ مثلاً جنسی مجرم جیفری اپسٹین کہانی لے لیجیے، دنیا بھرکے مین اسٹریم میڈیا میں اس نے طوفان اٹھا دیا، ایک کے بعد ایک شخصیت بے نقاب کی جا رہی ہے، مگر اسرائیل کے سیاسی اور انٹیلی جنس حلقوں کی تمام شخصیات محفوظ ہیں حالانکہ اس جنسی مجرم کے ان سے بھی روابط تھے۔

ایک وقت تھا کہ جب عراق کے صدام حسین کو کچلنے کے لیے مین اسٹریم میڈیا میں یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ عراق میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں اور موجود ہیں بعد میں یہ بات غلط بھی ثابت ہوئی لیکن آج اسرائیل میں تھرمو بریک ہتھیاروں کو استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے انسانی جسم پگھل کر ہوا میں ہی تحلیل ہو رہے ہیں۔

ایسے گھناؤ نے جرم پر عالمی مین اسٹریم میڈیا خاموش بیٹھا ہے جو ایران کے ایٹمی پروگرام پر بھی اس طرح پروپیگنڈا کرتا ہے جیسے اس پروگرام سے نہ جانے کتنی ہلاکتیں ہوگئی ہوں۔ یوں دیکھا جائے تو امریکا کے بعد اسرائیل بھی صرف مین اسٹریم میڈیا ہی نہیں، سوشل میڈیا کو بھی اپنی سخت گرفت میں لے چکا ہے اور اس پلیٹ فارم پر ایسا خودکار نظام لاگوکردیا گیا ہے کہ جس کی موجودگی میں مظلوم فلسطینیوں کے لیے جو بھی خبر یا آواز بلند ہوتی ہے، بلاک ہوجاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مین اسٹریم میڈیا سرمایہ داروں ذرائع ابلاغ کارل مارکس سوشل میڈیا اسرائیل کے میڈیا کے میڈیا پر میڈیا ا کرتا ہے رہا ہے کے بعد کے لیے

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان