Islam Times:
2026-07-24@08:31:38 GMT

دنیا، ایران پر امریکی حملے کے اثرات برداشت کر پائے گی؟

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

دنیا، ایران پر امریکی حملے کے اثرات برداشت کر پائے گی؟

اسلام ٹائمز: ڈاکٹر سید غنیم، برسلز کی رائل ملٹری اکیڈمی کے پروفیسر ہیں، انہوں نے بڑی پتے کی بات کی کہا: بارہ روزہ جنگ میں خرمشہر کے تمام میزائل جو داغے گئے، وہ فضائی دفاعی نظاموں کو عبور کر گئے۔ تصور کریں کہ اگر ایسا میزائل کسی بحری یونٹ کے خلاف استعمال کیا جائے۔ کسی بھی جنگی جہاز کو جلانا یا نشانہ بنا کر ڈبونا، ایران کے لیے ٹرمپ کے غرور اور خودبینی کے مقابلے میں ایک بڑی فتح کا درجہ رکھتا ہے۔ جب ایران کوئی چیز کھلم کھلا اعلان کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے پاس صرف یہی ایک میزائل ہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی مغربی تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ ایران ایسا ڈرون یا میزائل بنا چکا ہے، جو گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے جنگ خطرناک ہوسکتی ہے۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

دفاعی تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ آزادی کی ایک قیمت ہوتی ہے، جو بھی آزاد اور خود مختار رہنا چاہتا ہے، اسے اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ قوموں پر ایسے وقت آتے ہیں، جب ان کے پاس جنگ یا ذلت آمیز معاہدے میں سے ایک کا آپشن ہوتا ہے۔ زندہ اقوام ذلت کی بجائے عزت سے لڑنا پسند کرتی ہے۔ رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے پچھلے چند دنوں کے بیانات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ بار بار امام حسینؑ کو پیش کی گئی بیعت پر آپ کے جواب کا ذکر کر رہے ہیں، یعنی صورتحال واضح ہے کہ یہاں سوالِ بیعت ہی غلط کیا گیا ہے، بیعت نہیں جنگ ہوگی اور ہم تیار ہیں۔ یہ پیغام دشمن نے وصول کیا ہے، آپ امریکی وزیر خارجہ کی گفتگو سنیں وہ کہہ رہا تھا کہ یہ لوگ شہادت کی تمنا رکھتے ہیں اور اسے میراث سمجھتے ہیں۔ یہ بات اس کے لیے بڑی تعجب کا باعث تھی۔

خطے کی حالت بھی کوئی ایسے ہی ہے، امریکی جنگی مشینری دھڑا دھڑ خطے میں پہنچ رہی ہے۔ خبروں کے مطابق پوری امریکی فضائیہ ایران کے اردگرد جمع کی جا رہی ہے۔ ائیر رفیولر ٹینکرز کے ہمراہ F-22 ریپٹر اور F-35 سمیت F-15 بمباروں کی متعدد اسکواڈرنز موجود ہیں۔ حالانکہ 610 ائیر رفیولر ٹینکرز میں سے 165 پہلے ہی مشرق وسطیٰ کے مختلف ائیربیسز پر موجود تھے، اب مزید 5 آرہے ہیں۔ ٹوٹل 170 میں سے فی ائیر رفیولر ٹینکر تقریباً چار جنگی جہازوں کو بیک وقت فیول مہیا کرسکتا ہے۔ یعنی 680 طیارے جن پر کم از کم دو ائیر لانچڈ بلاسٹک میزائل نصب ہوں تو 1360 میزائل اور سمندر میں موجود طیارہ بردار بحری بیڑے اور چار ایٹمی آبدوزوں کی ٹام ہاک کروز میزائل فائر کرنے کی صلاحیت 1800 ہے۔ جس کا مطلب پہلے ہی حملے میں تقریباً 3160 میزائلوں کا حملہ ایران پر ہوسکتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ وقت کا ابراہہ ہاتھیوں کے ساتھ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے اور طاقت کے نشے میں مست ہے۔

قرضوں میں ڈوبی امریکی معیشت دنیا کے تیل پر اجارہ داری چاہتی ہے، اس کے لیے دھونس دھاندلی کی جا رہی ہے۔ یہ جنگ شروع کرنا آسان ہے، مگر ختم کرنا بہت ہی مشکل  ہے۔ آپ اندازہ لگائیں، امریکہ سے مشرق وسطیٰ C-17A گلوب ماسٹر فوجی کارگو طیارے کو تقریباً 11 گھنٹے لگتے ہیں۔ جنوری کے وسط سے اب تک صرف گلوب ماسٹر جہاز کے 200 پروازیں ہوئی ہیں، یعنی 55 ملین ڈالر، باقی جہازوں کی نقل و حمل کی تفصیلات الگ ہے۔ جنگ لڑنے کا مطلب ہے پیسہ پانی کی طرح خرچ کرنا۔ ٹرمپ لمبی جنگ سے خوفزدہ ہے۔ اسے معلوم ہے کہ لمبی جنگ اسے لے ڈوبے گی۔ اسی لیے وہ چاہتا ہے کہ دنوں یا زیادہ سے زیادہ چند ہفتوں میں نتائج لے لے۔ ایسا ہونا عملی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔ ایران کوئی چھوٹا ملک نہیں ہے۔ یہ بہت بڑا ملک ہے۔ امریکہ اور اسرائیل سے مل کر آج تک غزہ پر قبضہ نہیں ہوسکا، یہ چلے ہیں پورے ملک پر قبضہ کرنے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ یہ بمباری کرکے نقصان پہنچائیں، مگر یہ نقصان انہیں خود زیادہ ہونے والا ہے۔

اتحادی بھی پہلے کی طرح امریکہ کے ساتھ نہیں ہیں۔ کینڈا سے لے کر جرمنی تک کے رہنماء چائنا کے دورے کر رہے ہیں اور دی ٹائمز کے مطابق برطانوی وفاقی کابینہ نے ٹرمپ کو بحر ہند میں واقع ڈیگو گارشیا کے اڈوں سے ایران پر حملوں کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ یہ بہت ہی اہم بات ہے کہ برطانیہ جو ہر معاملے بن بلائے امریکی مہمان بن جاتا تھا، اب امریکہ کو  انکار کر رہا ہے، اگرچہ ظاہری انکار ہی ہے۔ یہ چیزیں امریکیوں کو پریشان کر رہی ہیں۔ امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کہا ہے کہ سعودی عرب آگے بڑھنے کے بجائے اپنے قدم پیچھے اٹھا رہا ہے۔ ابراہام اکارڈز میں شمولیت پر وہ عرب امارات کو بہت شدید نشانہ بنا رہے ہیں۔ امریکی اس چکر میں تھے کہ اس جنگ کا خرچہ امریکیوں اور سعودیوں سے لیں گے اور یہ آپس میں گتھم گتھا ہو رہے ہیں۔ روس کے وزیر خارجہ لاوروف نے کہا ہے کہ  ایران کے ساتھ جنگ، آگ سے کھیلنا ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے، خطہ بھی تیل کا ہے اور آگ لگ گئی تو دور تک جائے گی اور دیر تک نہیں بجھے گی۔

ڈاکٹر سید غنیم، برسلز کی رائل ملٹری اکیڈمی کے پروفیسر ہیں، انہوں نے بڑی پتے کی بات کی کہا: بارہ روزہ جنگ میں خرمشہر کے تمام میزائل جو داغے گئے، وہ فضائی دفاعی نظاموں کو عبور کر گئے۔ تصور کریں کہ اگر ایسا میزائل کسی بحری یونٹ کے خلاف استعمال کیا جائے۔ کسی بھی جنگی جہاز کو جلانا یا نشانہ بنا کر ڈبونا، ایران کے لیے ٹرمپ کے غرور اور خودبینی کے مقابلے میں ایک بڑی فتح کا درجہ رکھتا ہے۔ جب ایران کوئی چیز کھلم کھلا اعلان کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے پاس صرف یہی ایک میزائل ہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی مغربی تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ ایران ایسا ڈرون یا میزائل بنا چکا ہے، جو گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے جنگ خطرناک ہوسکتی ہے۔

وہ ڈرون یا میزائل بنایا ہو یا بن رہا ہو، مگر ایک ہتھیار ایسا ضرور ہے، جو پوری دنیا کے ہر انسان کو متاثر کرے گا۔ وہ ہے تیل کی سپلائی کا بین الاقوامی نظام کاٹنے کا ہے۔ ابھی جنگ کی خبریں ہیں اور تیل کی قیمتیں چھ ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں۔ برینٹ آئل کی قیمت 71 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ اگر تیل کی قیمت عالمی سطح پر 500 ڈالر تک پہنچ جائے تیل کی سپلائی 70-80% ختم ہو جائے تو ہر چیز کو آگ لگ جائے گی اور عالمی معاشی بحران سر پر آن کھڑا ہوگا۔ ایران اور کچھ کر پائے یا نہ کر پائے، یہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا عملی اظہار کرچکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران کے ہیں کہ ا کی قیمت کا مطلب رہے ہیں تیل کی کے لیے

پڑھیں:

انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران

ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔

ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی