دنیا، ایران پر امریکی حملے کے اثرات برداشت کر پائے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: ڈاکٹر سید غنیم، برسلز کی رائل ملٹری اکیڈمی کے پروفیسر ہیں، انہوں نے بڑی پتے کی بات کی کہا: بارہ روزہ جنگ میں خرمشہر کے تمام میزائل جو داغے گئے، وہ فضائی دفاعی نظاموں کو عبور کر گئے۔ تصور کریں کہ اگر ایسا میزائل کسی بحری یونٹ کے خلاف استعمال کیا جائے۔ کسی بھی جنگی جہاز کو جلانا یا نشانہ بنا کر ڈبونا، ایران کے لیے ٹرمپ کے غرور اور خودبینی کے مقابلے میں ایک بڑی فتح کا درجہ رکھتا ہے۔ جب ایران کوئی چیز کھلم کھلا اعلان کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے پاس صرف یہی ایک میزائل ہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی مغربی تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ ایران ایسا ڈرون یا میزائل بنا چکا ہے، جو گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے جنگ خطرناک ہوسکتی ہے۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
دفاعی تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ آزادی کی ایک قیمت ہوتی ہے، جو بھی آزاد اور خود مختار رہنا چاہتا ہے، اسے اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ قوموں پر ایسے وقت آتے ہیں، جب ان کے پاس جنگ یا ذلت آمیز معاہدے میں سے ایک کا آپشن ہوتا ہے۔ زندہ اقوام ذلت کی بجائے عزت سے لڑنا پسند کرتی ہے۔ رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے پچھلے چند دنوں کے بیانات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ بار بار امام حسینؑ کو پیش کی گئی بیعت پر آپ کے جواب کا ذکر کر رہے ہیں، یعنی صورتحال واضح ہے کہ یہاں سوالِ بیعت ہی غلط کیا گیا ہے، بیعت نہیں جنگ ہوگی اور ہم تیار ہیں۔ یہ پیغام دشمن نے وصول کیا ہے، آپ امریکی وزیر خارجہ کی گفتگو سنیں وہ کہہ رہا تھا کہ یہ لوگ شہادت کی تمنا رکھتے ہیں اور اسے میراث سمجھتے ہیں۔ یہ بات اس کے لیے بڑی تعجب کا باعث تھی۔
خطے کی حالت بھی کوئی ایسے ہی ہے، امریکی جنگی مشینری دھڑا دھڑ خطے میں پہنچ رہی ہے۔ خبروں کے مطابق پوری امریکی فضائیہ ایران کے اردگرد جمع کی جا رہی ہے۔ ائیر رفیولر ٹینکرز کے ہمراہ F-22 ریپٹر اور F-35 سمیت F-15 بمباروں کی متعدد اسکواڈرنز موجود ہیں۔ حالانکہ 610 ائیر رفیولر ٹینکرز میں سے 165 پہلے ہی مشرق وسطیٰ کے مختلف ائیربیسز پر موجود تھے، اب مزید 5 آرہے ہیں۔ ٹوٹل 170 میں سے فی ائیر رفیولر ٹینکر تقریباً چار جنگی جہازوں کو بیک وقت فیول مہیا کرسکتا ہے۔ یعنی 680 طیارے جن پر کم از کم دو ائیر لانچڈ بلاسٹک میزائل نصب ہوں تو 1360 میزائل اور سمندر میں موجود طیارہ بردار بحری بیڑے اور چار ایٹمی آبدوزوں کی ٹام ہاک کروز میزائل فائر کرنے کی صلاحیت 1800 ہے۔ جس کا مطلب پہلے ہی حملے میں تقریباً 3160 میزائلوں کا حملہ ایران پر ہوسکتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ وقت کا ابراہہ ہاتھیوں کے ساتھ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے اور طاقت کے نشے میں مست ہے۔
قرضوں میں ڈوبی امریکی معیشت دنیا کے تیل پر اجارہ داری چاہتی ہے، اس کے لیے دھونس دھاندلی کی جا رہی ہے۔ یہ جنگ شروع کرنا آسان ہے، مگر ختم کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ آپ اندازہ لگائیں، امریکہ سے مشرق وسطیٰ C-17A گلوب ماسٹر فوجی کارگو طیارے کو تقریباً 11 گھنٹے لگتے ہیں۔ جنوری کے وسط سے اب تک صرف گلوب ماسٹر جہاز کے 200 پروازیں ہوئی ہیں، یعنی 55 ملین ڈالر، باقی جہازوں کی نقل و حمل کی تفصیلات الگ ہے۔ جنگ لڑنے کا مطلب ہے پیسہ پانی کی طرح خرچ کرنا۔ ٹرمپ لمبی جنگ سے خوفزدہ ہے۔ اسے معلوم ہے کہ لمبی جنگ اسے لے ڈوبے گی۔ اسی لیے وہ چاہتا ہے کہ دنوں یا زیادہ سے زیادہ چند ہفتوں میں نتائج لے لے۔ ایسا ہونا عملی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔ ایران کوئی چھوٹا ملک نہیں ہے۔ یہ بہت بڑا ملک ہے۔ امریکہ اور اسرائیل سے مل کر آج تک غزہ پر قبضہ نہیں ہوسکا، یہ چلے ہیں پورے ملک پر قبضہ کرنے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ یہ بمباری کرکے نقصان پہنچائیں، مگر یہ نقصان انہیں خود زیادہ ہونے والا ہے۔
اتحادی بھی پہلے کی طرح امریکہ کے ساتھ نہیں ہیں۔ کینڈا سے لے کر جرمنی تک کے رہنماء چائنا کے دورے کر رہے ہیں اور دی ٹائمز کے مطابق برطانوی وفاقی کابینہ نے ٹرمپ کو بحر ہند میں واقع ڈیگو گارشیا کے اڈوں سے ایران پر حملوں کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ یہ بہت ہی اہم بات ہے کہ برطانیہ جو ہر معاملے بن بلائے امریکی مہمان بن جاتا تھا، اب امریکہ کو انکار کر رہا ہے، اگرچہ ظاہری انکار ہی ہے۔ یہ چیزیں امریکیوں کو پریشان کر رہی ہیں۔ امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کہا ہے کہ سعودی عرب آگے بڑھنے کے بجائے اپنے قدم پیچھے اٹھا رہا ہے۔ ابراہام اکارڈز میں شمولیت پر وہ عرب امارات کو بہت شدید نشانہ بنا رہے ہیں۔ امریکی اس چکر میں تھے کہ اس جنگ کا خرچہ امریکیوں اور سعودیوں سے لیں گے اور یہ آپس میں گتھم گتھا ہو رہے ہیں۔ روس کے وزیر خارجہ لاوروف نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ، آگ سے کھیلنا ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے، خطہ بھی تیل کا ہے اور آگ لگ گئی تو دور تک جائے گی اور دیر تک نہیں بجھے گی۔
ڈاکٹر سید غنیم، برسلز کی رائل ملٹری اکیڈمی کے پروفیسر ہیں، انہوں نے بڑی پتے کی بات کی کہا: بارہ روزہ جنگ میں خرمشہر کے تمام میزائل جو داغے گئے، وہ فضائی دفاعی نظاموں کو عبور کر گئے۔ تصور کریں کہ اگر ایسا میزائل کسی بحری یونٹ کے خلاف استعمال کیا جائے۔ کسی بھی جنگی جہاز کو جلانا یا نشانہ بنا کر ڈبونا، ایران کے لیے ٹرمپ کے غرور اور خودبینی کے مقابلے میں ایک بڑی فتح کا درجہ رکھتا ہے۔ جب ایران کوئی چیز کھلم کھلا اعلان کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے پاس صرف یہی ایک میزائل ہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی مغربی تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ ایران ایسا ڈرون یا میزائل بنا چکا ہے، جو گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے جنگ خطرناک ہوسکتی ہے۔
وہ ڈرون یا میزائل بنایا ہو یا بن رہا ہو، مگر ایک ہتھیار ایسا ضرور ہے، جو پوری دنیا کے ہر انسان کو متاثر کرے گا۔ وہ ہے تیل کی سپلائی کا بین الاقوامی نظام کاٹنے کا ہے۔ ابھی جنگ کی خبریں ہیں اور تیل کی قیمتیں چھ ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں۔ برینٹ آئل کی قیمت 71 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ اگر تیل کی قیمت عالمی سطح پر 500 ڈالر تک پہنچ جائے تیل کی سپلائی 70-80% ختم ہو جائے تو ہر چیز کو آگ لگ جائے گی اور عالمی معاشی بحران سر پر آن کھڑا ہوگا۔ ایران اور کچھ کر پائے یا نہ کر پائے، یہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا عملی اظہار کرچکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران کے ہیں کہ ا کی قیمت کا مطلب رہے ہیں تیل کی کے لیے
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ