مقبولیت کے باوجود عمران کو جیل سے نہیں نکال پارہے، ہماری نیت ٹھیک نہیں یا استعمال ہورہے ہیں: گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
سابق وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے کہا ہےکہ مقبولیت کے باوجود ہم عمران خان کو جیل سے نہیں نکال پارہے، ہماری نیت ٹھیک نہیں یا استعمال ہورہے ہیں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اگر ہمارے اندرونی معاملات ٹھیک ہوتے تو عمران خان جیل میں نہ ہوتے، ملک میں قانون اورآئین نہ ہونے کے ساتھ ہماری غلطیاں بھی ہیں، مقبولیت اور سپورٹ کے باوجود ہم عمران خان کو جیل سے نکالنے میں بار بار ناکام ہورہے ہیں، ہماری نادانی ہے نیت ٹھیک نہیں ہے یا پھر ہم استعمال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی ذات کیلئے غصہ نہیں کررہا اپنے لیڈر کیلئےغصہ کررہا ہوں تو برداشت کرنا چاہیے، ہمیں پریشر بڑھانا ہوگا جو باتوں سے نہیں بڑھتا، ڈائیلاگ اور روزانہ ٹک ٹاک بنانے سے پریشر نہیں بڑھے گا، کسی پر الزام نہیں لگا رہا لیکن کوئی وجہ تو ہے جس سے پریشر کم ہوا، ٹی وی پر باتوں اور ٹک ٹاک پر دھمکی دینے سے بات نہیں بنے گی۔ علی امین کا کہنا تھا کہ ہم عمران خان کو ڈاکٹر کی رسائی کا حق نہیں دلا پا رہے ہیں، میرے پاس سرکاری اور پارٹی کا عہدہ نہیں ہے، ایک ورکر ہوں، احتجاج کی کال پر دو دفعہ سب سے بڑی ریلی لے کر آیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔