واشنگٹن: امریکا میں تجارتی محصولات کے معاملے پر نئی قانونی اور سیاسی کشمکش نے جنم لے لیا ہے جہاں اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا ہے کہ ٹیرف کی پالیسی ختم نہیں کی جائے گی بلکہ اس کے نفاذ کے لیے مختلف قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔

امریکی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد جاری بیان میں سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ رواں سال کے دوران ٹیرف کی مجموعی سطح کم و بیش وہی رہے گی جو اس وقت نافذ ہے، تاہم ان کے اطلاق کا طریقہ کار تبدیل ہوگا تاکہ عدالتی اعتراضات سے بچا جا سکے۔

واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے صدر کے بعض اقدامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف عائد کرتے وقت اپنے صدارتی اختیارات سے تجاوز کیا۔ عدالت کے مطابق جس قانون کے تحت اضافی محصولات نافذ کیے گئے وہ قومی ایمرجنسی کے حالات کے لیے مخصوص تھا اور اس میں وسیع تجارتی محصولات عائد کرنے کی صراحت موجود نہیں تھی۔

اب سیکرٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ حکومت اب سیکشن 232 اور سیکشن 301 جیسے قوانین کا سہارا لے گی، جنہیں ماضی میں متعدد بار عدالتوں میں چیلنج کیا گیا مگر انہیں برقرار رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی صنعتوں اور قومی مفادات کے تحفظ سے پیچھے نہیں ہٹے گا، البتہ قانونی بنیاد کو مضبوط اور عدالتی تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے گا۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے سخت لہجہ اختیار کیا اور کہا کہ امریکا اپنی معاشی خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک وقتی طور پر خوش ہوسکتے ہیں مگر امریکی تجارتی حکمت عملی بدستور مضبوط رہے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ صرف قانونی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔ ایک طرف عدلیہ صدارتی اختیارات کی حد بندی پر زور دے رہی ہے تو دوسری طرف انتظامیہ عالمی تجارتی توازن کو اپنے حق میں رکھنے کے لیے محصولات کو ناگزیر قرار دے رہی ہے۔

عالمی منڈیوں میں اس پیش رفت کو قریب سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ امریکی ٹیرف پالیسی براہ راست چین، یورپ اور دیگر تجارتی شراکت داروں کو متاثر کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ محصولات کی شرح میں فوری کمی کا امکان نہیں، تاہم قانونی پیچیدگیوں کے باعث مستقبل میں تجارتی معاہدوں اور عالمی سپلائی چین پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ