امریکی سینیٹر نے جاپان پر ایٹمی حملے کو جائز قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے غزہ کی تازہ ترین جنگی تباہی پر کھل کر اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے اقدامات جائز اور ضروری تھے اور انہیں کسی طور بھی انسانی اقدار یا بین الاقوامی اصولوں کے خلاف نہیں سمجھنا چاہیے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کہا کہ امریکا نے دوسری جنگ عظیم میں برلن اور ٹوکیو کو مکمل طور پر زمین بوس کر دیا تھا اور جاپان میں ایٹمی حملے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے لازم تھے۔
انہوں نے غزہ کی صورتحال کو دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا کی جنگی کارروائیوں کے ساتھ موازنہ کیا اور موقف اختیار کیا کہ جنگ میں تباہی ایک فطری عمل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس پس منظر میں دیکھیں تو اسرائیل نے غزہ میں جو کارروائی کی، وہ کسی بھی اسرائیلی رہنما کی جانب سے کی جانے والی حکمت عملی کے مطابق تھی۔
جب صحافی نے سوال کیا کہ کیا غزہ کی تباہی مسیحی اقدار یا انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق ہے، تو گراہم نے واضح کیا کہ وہ اس بات کے قائل نہیں اور ان کے نزدیک جنگ میں شہری اور فوجی نقصان کا تناسب ایک پیچیدہ اور ناگزیر حقیقت ہے۔
سینیٹر نے مزید کہا کہ جنگ میں نقصان اور تباہی ناگزیر ہے اور غزہ میں اسرائیل کی جانب سے کیے گئے اقدامات میں کوئی اخلاقی یا قانونی تضاد نہیں بلکہ یہ ایک دفاعی حکمت عملی کے تحت کیے گئے اقدامات ہیں، موجودہ حالات میں اسرائیل نے اپنی سرحدوں اور شہریوں کی حفاظت کے لیے وہی اقدامات کیے جو کسی بھی عالمی طاقت کی پالیسی میں متوقع ہوتے۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب غزہ میں جاری تصادم نے عالمی برادری میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے اور انسانی ہمدردی کے عالمی معیار اور جنگی حکمت عملی کے تنازع پر دوبارہ بحث کو جنم دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔