تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہر بار یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر معاملہ جنگ تک پہنچا تو کیا ایران چین اور روس کی حمایت پر بھروسہ کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے تعلقات زیادہ تر حکمتِ عملی اور وقتی مفاد پر مبنی ہیں، نہ کہ کوئی پکا فوجی اتحاد۔
میڈیا میں اکثر ‘محور’ یا ‘بلاک’ جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران کا نہ روس اور نہ ہی چین کے ساتھ کوئی باضابطہ فوجی اتحاد موجود ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں اتحاد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک ملک پر حملہ ہو تو دوسرا لازمی طور پر دفاع کے لیے کھڑا ہو۔ ایران اور ان دونوں طاقتوں کے درمیان ایسا کوئی عہد موجود نہیں۔
تاہم، بعض شعبوں میں ایران کی ’سٹریٹیجک شراکت داری‘ نے تعلقات کی ایک حد تک مضبوطی دکھائی ہے۔ مثال کے طور پر، جنوری 2024 میں ایران اور روس کے درمیان طے پانے والا سٹریٹیجک پارٹنرشپ معاہدہ دفاعی اور سکیورٹی تعاون پر زور دیتا ہے، لیکن اس میں کسی بھی فریق پر حملے کی صورت میں براہِ راست فوجی مداخلت کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔ معاہدے میں یہ بھی طے پایا کہ دونوں ممالک اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں کریں گے، مگر یہ ایک جامع دفاعی معاہدے سے مختلف ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگرچہ کچھ دفاعی اور سکیورٹی تعاون کے شعبے موجود ہیں، لیکن ایران کسی بھی وقت چین یا روس سے لازمی فوجی حمایت کی توقع نہیں رکھ سکتا۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہر حمید رضا عزیزی کے مطابق اتحاد ریاستوں کے درمیان تعلقات کی سب سے بلند سطح ہے، اور ایران کے معاملے میں ایسا کوئی پکا اتحاد نہیں پایا جاتا۔
مختصر یہ کہ چین اور روس ایران کے قریبی شراکت دار ضرور ہیں، مگر ایک حقیقی فوجی اتحادی کے طور پر ان کی حمایت پر مکمل بھروسہ کرنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے درمیان

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار