ایران اور امریکہ کے تنازع میں چین و روس کی ممکنہ حمایت: حقیقت کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہر بار یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر معاملہ جنگ تک پہنچا تو کیا ایران چین اور روس کی حمایت پر بھروسہ کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے تعلقات زیادہ تر حکمتِ عملی اور وقتی مفاد پر مبنی ہیں، نہ کہ کوئی پکا فوجی اتحاد۔
میڈیا میں اکثر ‘محور’ یا ‘بلاک’ جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران کا نہ روس اور نہ ہی چین کے ساتھ کوئی باضابطہ فوجی اتحاد موجود ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں اتحاد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک ملک پر حملہ ہو تو دوسرا لازمی طور پر دفاع کے لیے کھڑا ہو۔ ایران اور ان دونوں طاقتوں کے درمیان ایسا کوئی عہد موجود نہیں۔
تاہم، بعض شعبوں میں ایران کی ’سٹریٹیجک شراکت داری‘ نے تعلقات کی ایک حد تک مضبوطی دکھائی ہے۔ مثال کے طور پر، جنوری 2024 میں ایران اور روس کے درمیان طے پانے والا سٹریٹیجک پارٹنرشپ معاہدہ دفاعی اور سکیورٹی تعاون پر زور دیتا ہے، لیکن اس میں کسی بھی فریق پر حملے کی صورت میں براہِ راست فوجی مداخلت کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔ معاہدے میں یہ بھی طے پایا کہ دونوں ممالک اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں کریں گے، مگر یہ ایک جامع دفاعی معاہدے سے مختلف ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگرچہ کچھ دفاعی اور سکیورٹی تعاون کے شعبے موجود ہیں، لیکن ایران کسی بھی وقت چین یا روس سے لازمی فوجی حمایت کی توقع نہیں رکھ سکتا۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہر حمید رضا عزیزی کے مطابق اتحاد ریاستوں کے درمیان تعلقات کی سب سے بلند سطح ہے، اور ایران کے معاملے میں ایسا کوئی پکا اتحاد نہیں پایا جاتا۔
مختصر یہ کہ چین اور روس ایران کے قریبی شراکت دار ضرور ہیں، مگر ایک حقیقی فوجی اتحادی کے طور پر ان کی حمایت پر مکمل بھروسہ کرنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے درمیان
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔