یونان کشتی حادثہ: ثاقب ججہ گرفتار، متاثرین سے مبینہ طور پر بیانات تبدیل کروائے گئے
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ایک سال سے زائد عرصے سے مطلوب ثاقب ججہ کو گرفتار کر لیا ہے، جو غیر قانونی طور پر نوجوانوں کو بیرون ملک بھیجنے کے الزام میں ملزم ہیں۔
ثاقب ججہ کا تعلق اسی گاؤں سے ہے جہاں کے کئی نوجوان اُس کشتی پر سوار تھے جو دسمبر 2024 میں یونان کے قریب حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ وہ اس ایجنٹ گروہ کے سرغنہ تھے، جنہوں نے یورپ جانے کے خواب دکھا کر سینکڑوں نوجوانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل کیا۔
حادثے کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے بتایا تھا کہ کشتی پر سوار کم از کم پانچ پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے، جبکہ 47 افراد کو بچا لیا گیا۔
ایف آئی اے کے مطابق ثاقب ججہ کے خلاف متاثرین کی جانب سے 14 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزم اور اس گروہ کے دیگر ارکان نے نوجوانوں سے 20 لاکھ سے لے کر 38 لاکھ روپے تک وصول کیے، اور کچھ متاثرین سے مبینہ طور پر بیانات تبدیل کروانے کی کوشش بھی کی گئی۔
پسرور کے رہائشی دلاور حسین نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو اٹلی بھیجنے کے لیے ایک سب ایجنٹ سے رابطہ کیا، جو ثاقب ججہ کے زیرِ انتظام کام کرتا تھا۔ ایڈوانس رقم کے بدلے بیانات میں تبدیلی کے امکانات اور گروہ کے مالی لین دین کے طریقہ کار نے متاثرین میں خوف اور عدم تحفظ پیدا کیا۔
دلاور حسین کے مطابق گروہ کے لیے خواتین بھی کام کرتی تھیں، جو گھروں میں کام کے بہانے نوجوانوں کے لیے غیر قانونی بیرون ملک بھیجنے کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات فراہم کرتی تھیں۔
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے اس گروہ کے دو دیگر ارکان کو اسی واقعے سے متعلق مقدمات میں جرمانے کی سزائیں بھی سنائی ہیں، جس سے اس نیٹ ورک کی کارروائیوں کا پھیلاؤ واضح ہوتا ہے۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ثاقب ججہ کو پاکستان واپسی پر گرفتار کر کے مزید تفتیش کے لیے حراست میں رکھا گیا ہے، اور مقدمے کی سماعت جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایف ا ئی اے گروہ کے کے لیے
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔