سندھ اسمبلی: نئے صوبوں کی تجاویز کے خلاف قرارداد منظور، کراچی سندھ کا جدا نہ ہونے والا حصہ قرار
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
سندھ اسمبلی نے کراچی کو سندھ کا لازمی اور جدا نہ ہونے والا حصہ قرار دیتے ہوئے نئے صوبے بنانے کی کوششوں کے خلاف قرارداد منظور کرلی۔
یہ قرارداد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، تاہم ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے مخالفت کی۔
مزید پڑھیں: نئے صوبے کے قیام کے لیے دو تہائی اکثریت کی شرط ختم ہو سکتی ہے، اپوزیشن لیڈر سندھ علی خورشیدی
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس اسمبلی کی طرف سے سندھ کی تقسیم یا کراچی کو علیحدہ صوبے کے طور پر بنانے کی کسی بھی سازش کی یکسر مذمت اور مخالفت کی جاتی ہے۔
وزیراعلیٰ کے اس اقدام کے پس منظر میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا بار بار مطالبہ رہا ہے کہ کراچی کو وفاقی علاقہ بنایا جائے اور مرکزی حکومت مداخلت کرے۔
قرارداد میں تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز سے کہا گیا کہ وہ تقسیم کی باتیں یا ایسی کارروائیوں سے گریز کریں جو صوبائی اتحاد اور قومی یکجہتی کو خطرے میں ڈالیں۔
اس میں کہا گیا کہ سندھ کی یکجہتی، علاقائی سالمیت اور تاریخی شناخت ہمارے آباؤ اجداد کی میراث ہیں اور انہیں آئینی، جمہوری اور سیاسی طریقوں سے تحفظ دیا جائے گا۔
قرارداد میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ سندھ اسمبلی تمام پارٹیوں سے بالاتر ہو کر سندھ کی سالمیت، وقار اور ناقابل تقسیم وراثت کے دفاع میں متحد ہے۔
قرارداد کی حمایت میں جماعت اسلامی کے ایم پی اے محمد فاروق اور پاکستان تحریک انصاف کے شبیر قریشی اور سجاد سومرو شامل تھے، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان نے اس کی مخالفت کی۔
ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین نے خطاب میں کہاکہ یہ قرارداد آئین کے منافی ہے، تاہم وزیر اعلیٰ نے واضح کیاکہ قرارداد آئین کے مطابق ہے اور مخالفین سے چیلنج کیا کہ وہ ایک بھی آئینی خلاف ورزی کی نشاندہی کریں۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایم کیو ایم پاکستان کی سابقہ پوزیشن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ 2019 میں بھی سندھ اسمبلی نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی تھی اور اس وقت ایم کیو ایم نے حمایت کی تھی۔
وزیر اعلیٰ کی وضاحت اور ردعملوزیر اعلیٰ نے کہاکہ کراچی کو کسی صورت الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی سندھ کا لازمی حصہ ہے اور سندھ اسمبلی صوبائی اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھے گی۔
انہوں نے مزید کہاکہ جو بھی شخص پاکستان پر یقین رکھتا ہے، وہ اس قرارداد کی حمایت کرے گا۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیاکہ سندھ اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کسی بھی نئے صوبے کے قیام کی کوشش روکنے میں فیصلہ کن ہوگی۔
سندھ کی تاریخی حیثیتقرارداد میں سندھ کی تاریخی حیثیت بھی بیان کی گئی ہے، جس میں کہا گیا کہ کراچی کی تعمیر میں سندھ کے ہر علاقے کے لوگوں نے حصہ ڈالا، اور کراچی کو پاکستان کا اقتصادی مرکز بنایا۔
قرارداد میں خبردار کیا گیا کہ سندھ کی تقسیم یا کراچی کو الگ صوبے میں تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش سے نہ صرف صوبائی یکجہتی خطرے میں پڑے گی بلکہ قومی ہم آہنگی اور وفاقی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچے گا۔
مزید پڑھیں: نئے صوبے ملک کے مفاد میں ہیں، مخالفت کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا، عبدالعلیم خان
یہ بھی یاد دہانی کرائی گئی کہ 1955 میں ون یونٹ کے نفاذ کے خلاف سندھ کے لوگوں نے مزاحمت کی اور 1970 میں سندھ کی بحالی اس عزم کا ثبوت ہے کہ اس کے لوگ اپنی صوبائی شناخت اور وراثت کا دفاع کریں گے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے، جس کی شناخت، زبان اور ثقافت جدید سیاسی حدود سے پہلے وجود میں آئیں اور مختلف حملوں، سلطنتوں اور نوآبادیاتی حکمرانی کے باوجود برقرار رہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سندھ اسمبلی قرارداد منظور کراچی مراد علی شاہ نئے صوبے وزیراعلیٰ سندھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سندھ اسمبلی کراچی مراد علی شاہ وزیراعلی سندھ ایم کیو ایم پاکستان سندھ اسمبلی گیا کہ سندھ میں کہا گیا کہا گیا کہ وزیر اعلی کراچی کو سندھ کی
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔