کراچی میں ٹینکر سسٹم بند کرو، میئر نے تو کہا تھا کہ ہم لائن کے ذریعے پانی فراہم کریں گے، سندھ ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
جسٹس عدنان کریم میمن نے سوال کیا کہ تو پھر ٹینکرز والوں کو پانی کہاں سے ملتا ہے؟ ٹینکرز والے تو پورے کراچی کو پانی پہنچا رہے ہیں، جب ٹینکرز کے ذریعے پانی مل رہا ہے تو لائن کے ذریعے کیوں نہیں دیا جا رہا؟ اس کا مطلب ہے پانی موجود ہے لیکن لائنوں کے ذریعے نہیں دے رہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے کراچی واٹر کارپوریشن کے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میئر نے تو کہا تھا کہ ہم لائن کے ذریعے پانی فراہم کریں گے۔ سندھ ہائی کورٹ نے اورنگی ٹاؤن میں شہری کے گھر پانی کی عدم فراہمی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے سپرنٹنڈنٹ کراچی واٹر کارپوریشن سے سوال کیا کہ لوگوں کو پانی کیوں نہیں دے رہے؟ درخواست گزار کے گھر تک پانی پہنچائیں۔ واٹر کارپوریشن کے وکیل نے کہا کہ پرانی لائنیں ہیں، بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی ہے۔ جس پر جسٹس عدنان کریم میمن نے کہا کہ تو لائنیں بنا، کچھ خرچ عوام پر بھی کریں۔ سپرنٹنڈنٹ کراچی واٹر کارپوریشن نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں پیچھے سے بھی پانی بہت کم مل رہا ہے۔
جسٹس عدنان کریم میمن نے سوال کیا کہ تو پھر ٹینکرز والوں کو پانی کہاں سے ملتا ہے؟ ٹینکرز والے تو پورے کراچی کو پانی پہنچا رہے ہیں، جب ٹینکرز کے ذریعے پانی مل رہا ہے تو لائن کے ذریعے کیوں نہیں دیا جا رہا؟ اس کا مطلب ہے پانی موجود ہے لیکن لائنوں کے ذریعے نہیں دے رہے۔ سپرنٹنڈنٹ کراچی واٹر کارپوریشن نے کہا کہ ٹینکرز والے غیر قانونی ہائیڈرنٹس سے بھی پانی لیتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ قانونی ہو یا غیر قانونی، شہریوں کو پانی گھروں تک ملنا چاہیئے، ٹینکر سسٹم بند کرو، لوگوں کو لائنوں کے ذریعے پانی دو، ہم اس درخواست پر سخت فیصلہ کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کراچی واٹر کارپوریشن کے ذریعے پانی لائن کے ذریعے نے کہا کہ کو پانی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔