چین کے مینوفیکچرنگ شعبے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر نفاذ
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
چین کے مینوفیکچرنگ شعبے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو اپنانے کا عمل اب بڑے پیمانے پر پہنچ گیا ہے، اور زیادہ تر بڑے صنعتی اداروں نے اہم ڈیجیٹل اپگریڈ مکمل کر لیے ہیں، ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکنالوجی میں چین کی برق رفتار پیشرفت، فروری میں شروع ہونے والا چینی ’سالِ گھوڑا‘ اور اس کی اہمیت
چائنا اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 تک صنعتی شعبے کے 89.
رپورٹ میں انجینئر جیاو بی بی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل تبدیلی اب پیداوار کی کارکردگی، صنعتی لچک اور ماحول دوست پیداوار میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ اپگریڈ صرف پائلٹ منصوبوں تک محدود نہیں، بلکہ ملک کے صنعتی شعبے میں بڑے پیمانے پر نافذ کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی چینی کمپنیوں کو ملک میں ٹیکنالوجی پارکس بنانے کی دعوت
رپورٹ میں مزید سفارش کی گئی ہے کہ چین کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے نفاذ کو تیز کرنا چاہیے، اور اس عمل کو کمپنیوں کی عملی ضروریات اور صنعتی اپگریڈ کے وسیع تر اہداف سے ہم آہنگ کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی بنیادی ڈھانچے، معیارات کی تیاری اور دیگر بنیادی شعبوں میں مضبوط معاونت پر زور دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل تبدیلی کی لہر سے پیداوار کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا، صنعتی مسابقت مضبوط ہوگی اور سبز، ماحول دوست مینوفیکچرنگ کے فروغ میں مدد ملے گی، جس سے چین ذہین صنعتی ترقی کے شعبے میں عالمی سطح پر آگے رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی گیا ہے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔