سابق بھارتی کرکٹر شیکھر دھون نے اپنی گرل فرینڈ سے شادی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
سابق بھارتی کرکٹر شیکھر دھون نے اپنی گرل فرینڈ صوفی شائن سے دوسری شادی کرلی ہے جس کے بعد مداحوں کی جانب سے انہیں مبارکبادیں دی جا رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شیکھر دھون نے ہفتے کے روز دہلی این سی آر میں ایک نجی تقریب کے دوران صوفی شائن کے ساتھ شادی کی۔ اس تقریب میں صرف قریبی اہلِ خانہ اور چند دوستوں نے شرکت کی۔
شادی کی خبر بھارتی اسپنر یوزویندر چہل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر شیئر کی۔ انہوں نے شادی کی چند تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے مداحوں کو اس خوشخبری سے آگاہ کیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
View this post on Instagramواضح رہے کہ جنوری میں شیکھر دھون نے اپنی گرل فرینڈ صوفی شائن سے منگنی کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔
مزید پڑھیںسابق بھارتی کرکٹر شیکھر دھون کا اپنی گرل فرینڈ سے منگنی کا اعلان
پُراسرار خاتون کیساتھ شیکھر دھون کے تعلقات کی خبریں سچ ثابت ہوئیں
لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق صوفی شائن کا تعلق آئرلینڈ سے ہے اور وہ ایک پروڈکٹ کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ اس وقت امریکی ادارے ناردرن ٹرسٹ کارپوریشن میں سیکنڈ وائس پریذیڈنٹ اور پروڈکٹ کنسلٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
یاد رہے کہ شیکھر دھون اور ان کی سابق اہلیہ عائشہ مکھرجی کے درمیان اکتوبر 2023 میں باضابطہ علیحدگی ہوگئی تھی اور ان کی 11 سالہ ازدواجی زندگی کا اختتام ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اپنی گرل فرینڈ شیکھر دھون نے صوفی شائن
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔