قومی اسمبلی میں شراب پر پابندی کا بل جمع، غیر مسلموں کو حاصل استثنیٰ ختم کرنے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رکنِ قومی اسمبلی نعیمہ کشور نے ملک میں شراب پر مکمل پابندی کے حوالے سے آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دیا ہے۔ اس ترمیم کا مقصد آئین کے آرٹیکل 37 میں تبدیلی کر کے شراب کی فروخت اور استعمال پر ہر قسم کی چھوٹ ختم کرنا ہے۔
نعیمہ کشور نے تجویز دی ہے کہ آرٹیکل 37 میں موجود "غیر مسلم" کا لفظ ختم کیا جائے۔ ترمیم منظور ہونے کی صورت میں شراب کے استعمال پر غیر مسلموں کو دیا گیا موجودہ آئینی استثنیٰ ختم ہو جائے گا اور ملک میں اس کی دستیابی پر مکمل پابندی عائد ہو سکے گی۔رکنِ اسمبلی نے کہا کہ شراب کی تمام مذاہب میں ممانعت ہے، لہٰذا اقلیتوں کو شراب کے ساتھ جوڑنا ان کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے۔نعیمہ کشور نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کا آرٹیکل 227 واضح ہے کہ تمام قوانین قرآن و سنت کی روشنی میں بنائے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں مسلم ریاست کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ غیر مسلموں کو شراب کے پرمٹ جاری کرے۔
نادرا نے تاریخ پیدائش کی تبدیلی یا تصحیح سے متعلق اہم ہدایات جاری کر دیں
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔