اسٹیبلشمنٹ، شریف اور زرداری خاندان پاکستان کو بحران میں دھکیل رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
منصورہ: جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے ملکی سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے شریف اور زرداری خاندان پر مضبوط گرفت قائم کر رکھی ہے اور یہ سب مل کر پاکستان کے وسائل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
منصورہ میں پریس کانفرنس کے دوران امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ موجودہ انتخابی اور پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا ہے، فارم 47 کے ذریعے جنہیں آپ پارلیمنٹ میں لاتے ہیں، وہ ووٹ حاصل نہیں کر پاتے اور ان میں کچھ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں ہے، آپ کا ہائبرڈ نظام فیل ہو چکا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے ملکی اقتصادی پالیسیوں پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ صرف 10 ارب روپے میں قومی ایئر لائن پی آئی اے فروخت کر دی گئی، جبکہ وزیراعلیٰ کے لیے نیا طیارہ 11 ارب میں خریدا گیا، پاکستان اشتہاروں میں ترقی کر رہا ہے، لیکن گزشتہ چھ برس میں غربت میں 31.
حافظ نعیم الرحمان نے زرعی شعبے کی خراب صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ کسانوں کا بیڑا غرق ہو گیا ہے، حکومت نے کسانوں سے گندم 1800 روپے فی من خریدی جبکہ مارکیٹ میں اس کی قیمت 6 ہزار روپے رہی، درمیان میں جو تین سے چار ہزار روپے کا فرق ہے وہ کس کے پاس جا رہا ہے؟
بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے حافظ نعیم نے کہا کہ نہ تو پارلیمنٹ سے مشورہ لیا گیا اور نہ ہی کابینہ میں کوئی بات ہوئی، بورڈ آف پیس میں غزہ کی تباہی کا ذمہ دار حماس قرار دیا گیا اور پاکستان کی فوج کے ممکنہ کردار پر کوئی شفاف فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس میں پاکستان کی شمولیت کو ناقابلِ قبول ہے، غزہ میں کسی بھی صورت میں پاکستان کی فوج کو نہیں بھیجنا چاہیے اور اگر ہماری افواج کو امریکہ کی کمانڈ میں بھیجا گیا تو کیا وہ وہاں احتجاج کر پائیں گے؟”
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعتِ اسلامی اسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت کے خلاف 25 کروڑ عوام کو ساتھ ملا کر مزاحمت کرے گی اور ملکی مفاد میں ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان کی کہا کہ
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔