ٹی20 ورلڈ کپ، پاکستان اور نیوزی لینڈ کے میچ میں اگر بارش ہوگئی تو کیا ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں پاکستان اور نیوزی لینڈ ہفتے کے روز کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں مدمقابل ہوں گے۔
دونوں ٹیموں کے درمیان کرکٹ کی تاریخ میں ایک طویل اور سنسنی خیز رقابت موجود ہے، اور اس بار بھی داؤ پر بہت کچھ لگا ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ یہ مقابلہ نہایت سخت اور اعصاب شکن ثابت ہوگا، کیونکہ دونوں سائیڈز صلاحیت اور کارکردگی کے اعتبار سے ایک دوسرے کے قریب سمجھی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ میں یہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کا 50واں آمنا سامنا ہوگا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مختصر ترین فارمیٹ میں دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ کس قدر متوازن رہا ہے۔
اب تک کھیلے گئے 49 میچز میں پاکستان نے 24 جبکہ نیوزی لینڈ نے 23 فتوحات حاصل کی ہیں، جب کہ دو مقابلے برابر رہے۔
یہ اعداد و شمار دونوں ٹیموں کے درمیان فتح و شکست کے نہایت معمولی فرق کی عکاسی کرتے ہیں۔
بارش کے خدشاتکولمبو کا موسم بھی اس اہم مقابلے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق میچ سے قبل اور دوران بارش کا امکان ہے۔
مقابلہ مقامی وقت کے مطابق شام 7 بجے شروع ہونا ہے، تاہم ابتدائی حصے میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
درجہ حرارت چوبیس سے 26 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے جبکہ ہوا میں نمی کی شرح اسی فیصد سے زائد ہو سکتی ہے، جو کھلاڑیوں کے لیے اضافی چیلنج بن سکتی ہے۔
میچ کی منسوخی کی صورت میں کیا ہوگا؟اس میچ کے لیے کوئی ریزرو ڈے مختص نہیں کیا گیا، اگر بارش کے باعث مقابلہ منسوخ ہو جاتا ہے تو دونوں ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ دے دیا جائے گا، جو ان کی سیمی فائنل تک رسائی کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچا سکتا ہے۔
میچ آفیشلز کے پاس نتیجہ حاصل کرنے کے لیے اضافی 90 منٹ موجود ہوں گے، لیکن اگر 5 اوورز فی اننگز کا مقابلہ بھی ممکن نہ ہو سکا تو میچ کو منسوخ قرار دے دیا جائے گا۔
جنوری 2022 کے بعد سے دونوں ٹیمیں 24 مرتبہ آمنے سامنے آ چکی ہیں۔ اس عرصے میں نیوزی لینڈ کو معمولی برتری حاصل رہی، جس نے 13 میچز جیتے جبکہ پاکستان 9 مرتبہ سرفراز رہا۔
مزید پڑھیں:
تاہم پاکستانی شائقین کو 2022 کے ٹی20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کی یاد آج بھی تازہ ہے، جب پاکستان نے کیویز کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی تھی۔
دونوں ٹیموں کے درمیان آخری ٹی20 سیریز گزشتہ سال مارچ میں نیوزی لینڈ میں کھیلی گئی، جہاں میزبان ٹیم نے 3 میچوں کی سیریز 2 ایک سے اپنے نام کی تھی۔
حالیہ فارم پر نظر ڈالیں تو پاکستان نے اپنے آخری 5 میچوں میں 3 کامیابیاں حاصل کی ہیں، جب کہ ایک میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید پڑھیں:
دوسری جانب نیوزی لینڈ کی کارکردگی بھی کچھ اسی طرح اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں ٹیمیں تقریباً یکساں ردھم میں ہیں۔
اس ایڈیشن میں پاکستان کو گروپ مرحلے میں بھارت کے خلاف ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ نیوزی لینڈ جنوبی افریقہ سے ہار گیا۔
یوں دونوں ٹیمیں اپنے اپنے گروپس میں دوسری پوزیشن پر رہیں اور اب سپر ایٹ کے اس مشکل گروپ میں موجود ہیں جس میں انگلینڈ اور سری لنکا بھی شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بارش پاکستان پریماداسا اسٹیڈیم ٹی20 ورلڈ کپ محکمہ موسمیات نیوزی لینڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پریماداسا اسٹیڈیم ٹی20 ورلڈ کپ محکمہ موسمیات نیوزی لینڈ دونوں ٹیموں کے درمیان ٹی20 ورلڈ کپ نیوزی لینڈ کے لیے
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔