کراچی: مبینہ رشوت سے انکار پر شہری پر تشدد، انکوائری کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
کراچی کے علاقے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں ایک شہری نے الزام عائد کیا ہے کہ شاہین فورس کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر رشوت نہ دینے پر اسے تھانے لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ واقعے کے بعد پولیس حکام نے انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
نجی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ شریف آباد کے قریب غریب آباد پھاٹک پر قائم ایک ناکے پر پیش آیا، جہاں موٹر سائیکل پر سوار شہری انور علی کو روکا گیا۔ متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے اس سے مبینہ طور پر دو ہزار روپے طلب کیے۔ انکار کرنے پر اس کے کاغذات چیک کیے گئے اور بعد ازاں اسے شریف آباد تھانے منتقل کر دیا گیا۔
انور علی، جو گلبرگ فیڈرل بی ایریا بلاک 4 کے رہائشی اور مرغیوں کی فیڈ بنانے کے کارخانے کے مالک ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ تراویح کے بعد جم سے واپس آ رہے تھے اور گھر والوں کے لیے کھانا لے کر جا رہے تھے جب انہیں روکا گیا۔ ان کے مطابق تھانے میں ڈیوٹی افسر اور دیگر اہلکاروں نے ایک کمرے میں لے جا کر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مقابلے میں “ہائی فائر” کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں، جس سے وہ شدید خوفزدہ ہو گئے۔
متاثرہ شہری کے مطابق تشدد کے باعث وہ دو روزے بھی نہ رکھ سکے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کا موبائل فون توڑ دیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر اہل خانہ، اہل محلہ اور وکلا کی بڑی تعداد تھانے پہنچی، جس کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔
انور علی نے سی پی ایل سی سے میڈیکل لیٹر حاصل کر کے عباسی شہید اسپتال میں طبی معائنہ بھی کرایا، جہاں بقول ان کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس قدر خوفزدہ ہو گئے تھے کہ انہیں اپنی جان کا خطرہ محسوس ہونے لگا تھا۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر عمران خان نے شکایت پر انکوائری کا حکم دیتے ہوئے معاملہ ڈی ایس پی لیاقت آباد کے سپرد کر دیا ہے۔ ڈی ایس پی وسیم احمد کا کہنا ہے کہ متاثرہ شہری کو بیان کے لیے طلب کیا گیا ہے اور تمام الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے رپورٹ مرتب کی جائے گی۔
پولیس کی جانب سے جاری تحقیقات کے بعد ہی واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آئے گی، تاہم اس واقعے نے شہریوں کے تحفظ اور پولیس کے رویے سے متعلق ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔