بنگلہ دیش میں عید سے قبل اماموں، خطیبوں اور مؤذنوں کو ماہانہ اعزازیہ کی ادائیگی کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
بنگلہ دیش حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ عید سے قبل مسجد کے خطیبوں، اماموں اور مؤذنوں کو ماہانہ اعزازیہ کی ادائیگیاں شروع کی جائیں گی۔ یہ اعلان ہفتہ کے روز کابینہ کے اجلاس کے بعد حکومتی بریفنگ میں کیا گیا۔
بنگلہ دیش میں وزیر اعظم کے مشیر برائے تعلیم، بیرون ملک روزگار اور انفارمیشن ٹیکنالوجی مہدی امین نے بتایا کہ کابینہ نے انتخابی وعدوں کے تحت مذہبی رہنماؤں کے مالی تعاون کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا بنگلہ دیشی وزیر اعظم طارق رحمان سے پارٹی اصلاحات کو اولین ترجیح دینے کا مطالبہ
مہدی امین نے کہا کہ ہمارے انتخابی منشور میں خطیبوں، اماموں، مؤذنوں اور دیگر مذاہب کے رہنماؤں کے لیے ماہانہ اعزازیہ اور تہوار الاؤنس دینے کا وعدہ شامل تھا۔ وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق اس پروگرام کو مرحلہ وار عید سے پہلے نافذ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ادائیگیاں منتخب علاقوں میں عید سے قبل شروع کی جائیں گی۔
کابینہ نے ملازمت اور تعلیم کی اصلاحات سے متعلق وسیع پالیسی امور کا بھی جائزہ لیا، جس میں عوامی اور نجی شعبوں میں میرٹ کی بنیاد پر نوکریوں کی فراہمی، کاروباری مواقع کو فروغ دینا اور بیرون ملک انسانی وسائل کی برآمد کو مضبوط کرنا شامل تھا۔
مزید بتایا گیا کہ تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو بڑھانے کے ساتھ تجارتی اور صنعتی پالیسیوں میں اصلاحات پر بھی زور دیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کے لیے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش نے بھارتی اسپائس جیٹ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا
کابینہ اجلاس وزیراعظم طارق رحمان کی صدارت میں وزیر اعظم آفس، تےجگان میں ہوا، جو ان کے حلف اٹھانے کے بعد دوسرا اجلاس تھا۔ اس موقع پر وزیراعظم کے پریس سیکریٹری ابو عبداللہ ایم صالح اور اضافی پریس سیکریٹری عتیق الرحمن رومان بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش ماہانہ اعزازیہ مہدی امین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش ماہانہ اعزازیہ ماہانہ اعزازیہ بنگلہ دیش
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :