مادری زبانیں ہماری ثقافتی شناخت، تہذیبی ورثے اور قومی یکجہتی کا مضبوط ستون ہیں، گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
مادری زبان کے عالمی دن پر پیغام میں کامران خان ٹیسوری کا کہنا تھا کہ حکومت نصاب اور تعلیمی نظام میں مادری زبانوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، نئی نسل کو اپنی زبان، ثقافت اور اقدار سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے مادری زبان کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مادری زبانیں ہماری ثقافتی شناخت، تہذیبی ورثے اور قومی یکجہتی کا مضبوط ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مادری زبان میں تعلیم طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں، فہم اور اعتماد میں اضافہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نصاب اور تعلیمی نظام میں مادری زبانوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی نسل کو اپنی زبان، ثقافت اور اقدار سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبانوں کا تحفظ قومی ذمہ داری اور ثقافتی تنوع کا ضامن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو زبانوں کے تحفظ اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔