سندھ کے لوگ باشعور ہیں اور وہ جان چکے ہیں کہ گورنر ہاؤس میں کیا ہو رہا ہے، جام خان شورو
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر آبپاشی کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب کچھ عناصر کہتے تھے کہ ٹی وی بیچ کر بندوق لو، مگر آج کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے، شہر ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور رونقیں بحال ہو رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو نے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کے لوگ باشعور ہیں اور وہ جان چکے ہیں کہ گورنر ہاؤس میں کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو اس قرارداد کی مخالفت کرے گا وہ سندھ کی وحدانیت اور پاکستان کی مخالفت کرے گا۔ جام خان شورو نے اعلان کیا کہ وہ اس قرارداد کی مکمل حمایت کریں گے اور کسی کو بھی سندھ کے حقوق پر قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج سندھ کا شعور اور آواز کمزور نہیں ہوئی بلکہ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1938ء میں سندھ اسمبلی میں پاکستان بنانے کی قرارداد پیش کی گئی تھی اور اسی وقت کراچی کو دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ نے ہمیشہ وفاق کو مضبوط کیا اور آئین بنا کر دیا، ساتھ ہی یہ عہد کیا کہ کسی کو کسی کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وزیر آبپاشی نے کہا کہ ایم آر ڈی تحریک کے دوران جب آئین معطل کیا گیا تو ہم نے اس کی بحالی کے لیے جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں بھتہ خوری اور جلاؤ گھیراؤ جیسے معاملات پر بات نہیں کی گئی اور نہ ہی سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب کچھ عناصر کہتے تھے کہ ٹی وی بیچ کر بندوق لو، مگر آج کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے، شہر ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور رونقیں بحال ہو رہی ہیں۔ جام خان شورو نے کہا کہ سندھ کے عوام اپنے حقوق اور صوبے کی وحدت کے تحفظ کے لیے متحد ہیں اور اس قرارداد کی بھرپور حمایت کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سندھ کے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔