اردو ہماری قومی وحدت، تہذیبی شناخت اور تاریخی ورثے کی علامت ہے، خالد مقبول صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
اپنے خصوصی پیغام میں چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اردو زبان کو روزمرہ زندگی، تعلیم، تحقیق اور سوشل میڈیا میں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اپنی اصل شناخت سے جڑی رہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اردو ہماری قومی وحدت، تہذیبی شناخت اور تاریخی ورثے کی علامت ہے مادری زبان کسی بھی قوم کی فکری بنیاد ہوتی ہے اور یہی زبان نسلوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔ اِن خیالات کا اظہار متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر برائے تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے 21 فروری "بین الاقوامی یومِ مادری زبان" کے موقع پر قوم کے نام جاری کردہ اپنے خصوصی پیغام میں کیا۔ اپنے پیغام میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ اردو صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ہماری اقدار، روایات اور اجتماعی شعور کی امین ہے، آج کے دن ہمیں عہد کرنا چاہیئے کہ ہم اپنی مادری زبان کے فروغ، تحفظ اور ترویج کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اردو زبان کو روزمرہ زندگی، تعلیم، تحقیق اور سوشل میڈیا میں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اپنی اصل شناخت سے جڑی رہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ زبانوں کا احترام دراصل ثقافتوں کا احترام ہے اور اردو کا فروغ قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ آخر میں انہوں نے قوم کو بین الاقوامی یومِ مادری زبان کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان اردو زبان کے تحفظ اور ترویج کے لیے اپنا تاریخی کردار ادا کرتی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خالد مقبول صدیقی
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔