بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلیے بنائی گئی فورس کا نام تبدیل کرنے کو تیار ہیں، شفیع جان
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی شفیع جان نے پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلیے بنائی گئی فورس کا نام بات چیت کر کے تبدیل ہوسکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی شفیع اللہ جان نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں تک بانی کی رہائی کے لیے بنائی گئی فورس کے نام کی تبدیلی کی بات ہے تو بانی رہائی فورس کا نام تبدیل کرنے پر بات ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ہی اسٹریٹ موومنٹ کی ذمے داری سہیل آفریدی کو دی ، ہماری یہ فورس نوجوانوں پر مشتمل ہو گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے اعلان کردہ بانی کی رہائی کے لیے فورس کا مقصد صرف عمران خان کی رہائی ہے، اس کا اور کوئی سیاسی مقصد نہیں۔ رہائی کے ساتھ ہی بانی فورس فورس خود تحلیل کر دیں گے۔
مزید پڑھیںپارٹی کے اندرونی معاملات اچھے ہوتے تو عمران خان جیل سے باہر ہوتے،علی امین گنڈاپور
حکومتی پیشکش کے باوجود دباؤ میں آکرعمران خان سے ملاقات نہ کرنا غلطی ہے، رہنما پی ٹی آئی
مصطفیٰ کمال نے عمران خان کی آنکھ سے متعلق سوال پر خاموشی اختیار کرلی
اپنے موقف کو دوہراتے ہوئے شفیع جان کہا کہ رہائی فورس بنانے کا مقصد صرف اور صرف بانی کی رہائی سے ہو گا ، اس ونگ کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہوں گے ،جس دن بانی پی ٹی آئی رہا ہوں گے یہ فورس تحلیل ہو جائے گی۔
پارٹی میں اختلافات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا میں ہوں یا علی امین گنڈا پور ہوں یا پھرجنید اکبر، سب کا فوکس بانی کی رہائی اور صحت پر ہونا چاہیے ،باقی مسائل ہم بعد میں بیٹھ کر حل کر سکتے ہیں، اس وقت بانی کی صحت کا معاملہ اہم ہے ہمیں بانی کی رہائی پر فوکس کرنا چاہیے، باقی چیزیں بعد میں ہوتی رہیں گی ان کے لیے بڑا ٹائم پڑا ہے۔
رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ پی ٹی آئی واحد قومی اور سب سے بڑی جماعت ہے، بند کمروں سے باہر ہم سب ایک پیج پر ہوتے ہیں، ہماری یہ جنگ اس فرسودہ نظام کو تبدیل کرنے کی جنگ ہے۔
رہنما پی ٹی آئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم بانی کی رہائی کے حوالے سے ہرآئینی اور قانونی راستہ اختیار کر چکے ہیں، اب ہماری ہماری مرکزی اور صوبائی لیڈرشپ سر جوڑ کر بیٹھی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ مذاکرات اب نتیجہ خیز ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بانی کی رہائی پی ٹی آئی
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔