تھائی لینڈ میں ایک نجی پارک میں وائرس سے 72 چیتے ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
تھائی لینڈ کے شمالی علاقے میں واقع ایک نجی پارک میں کم از کم 72 چیتے ہلاک ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ ہلاکتیں ٹائیگر کنگڈم نامی پارک میں ہوئی ہیں جہاں موجودہ انتظامیہ سے ہفتے کے روز رابطہ نہیں ہو سکا۔
چیانگ مائی میں صوبائی لائیو سٹاک آفس نے جمعہ کو بتایا کہ جانچ میں چیتوں میں انتہائی متعدی کینائن ڈسٹیمپر وائرس کے ساتھ ساتھ نظامِ تنفس پر اثر ڈالنے والے بیکٹیریا کی موجودگی بھی پائی گئی۔
قومی لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ جب چیتے بیمار پڑتے ہیں تو بلیوں یا کتوں جیسے جانوروں کی نسبت ان کا پتہ لگانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ جب تک ہمیں احساس ہوا کہ وہ بیمار ہو گئے تھے تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پیٹا ایشیا نے اے ایف پی کو بتایا کہ چیتے اسی طریقے سے ہلاک ہوئے جیسے وہ زندہ تھے۔ بہت تکلیف، قید اور خوف کے ماحول میں ہوئی۔
ماہرین نے اس واقعے پر تشویش ظاہر کی کہ نجی جانوروں کے پارکوں میں بیماریوں کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات میں اضافہ ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔