Islam Times:
2026-07-23@23:31:23 GMT

علامہ رمضان توقیر کا دورہ لیہ

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

انہوں نے سانحہ ترلائی میں شہید ہونے والے مولانا محمد آمین خان مورانی کے فرزند شہید عمار مہدی اور تنظیمی کارکن نذر عباس خان کچھیلا کی کی وفات پر اہلخانہ سے تعزیت کی۔ اس موقع پر انہوں نے بستی حیدر شاہ والا میں دیگر مرحوم مومنین کے خانوادوں سے ملاقاتیں کیں اور فاتحہ خوانی کی۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

علامہ رمضان توقیر کا دورہ لیہ، سانحہ ترلائی کے شہید کی فاتحہ خوانی

علامہ رمضان توقیر کا دورہ لیہ، سانحہ ترلائی کے شہید کی فاتحہ خوانی

علامہ رمضان توقیر کا دورہ لیہ، سانحہ ترلائی کے شہید کی فاتحہ خوانی

علامہ رمضان توقیر کا دورہ لیہ، سانحہ ترلائی کے شہید کی فاتحہ خوانی

علامہ رمضان توقیر کا دورہ لیہ، سانحہ ترلائی کے شہید کی فاتحہ خوانی

علامہ رمضان توقیر کا دورہ لیہ، سانحہ ترلائی کے شہید کی فاتحہ خوانی

علامہ رمضان توقیر کا دورہ لیہ، سانحہ ترلائی کے شہید کی فاتحہ خوانی

علامہ رمضان توقیر کا دورہ لیہ، سانحہ ترلائی کے شہید کی فاتحہ خوانی

اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے ضلع لیہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سانحہ ترلائی میں شہید ہونے والے مولانا محمد آمین خان مورانی کے فرزند شہید عمار مہدی اور تنظیمی کارکن نذر عباس خان کچھیلا کی کی وفات پر اہلخانہ سے تعزیت کی۔ اس موقع پر انہوں نے بستی حیدر شاہ والا میں دیگر مرحوم مومنین کے خانوادوں سے ملاقاتیں کیں اور فاتحہ خوانی کی۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ رمضان توقیر کا دورہ لیہ انہوں نے

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی