Express News:
2026-07-23@23:31:18 GMT

امان اللہ نیئر شوکت : بچوں اور بڑوں کے پسندیدہ ادیب

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

امان اللہ نیئر شوکت اپنی عاجزی و انکساری اور ملنساری کے وصف ہر عام و خاص میں مقبول ہیں۔ زندگی کے طویل سفر میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر بھی وہ اپنے وصف کے ساتھ کامیابیاں اورکامرانیاں سمیٹ رہے ہیں۔

کمال کی بات یہ ہے کہ خود کو بطور شاعر اور ادیب ہوتے ہوئے دوسرے اُبھرنے والے لکھاریوں کے لیے راہ ہموارکرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ان کی بہترین رہنمائی کا فریضہ عبادت سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔

امان اللہ نیئر شوکت ایک محنتی اور دیانتدار آدمی ہے، ان کی تمام عمر محنت کرتے گزری، بچوں کی دنیا میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ، ضلع لیہ سے تعلق رکھنے والے امان اللہ نیئر شوکت پاکستان بننے سے چار سال قبل پیدا ہوئے۔

پانچ برس کی عمر میں والدین نے انھیں دینی اور مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مسجد بھیجا۔ نماز اور قرآنِ مجید پڑھنا سیکھ لیا جس پر آج بھی پابند ہیں۔ لیہ کے ایک پرائمری اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی،گورنمنٹ ہائی اسکول سے دس جماعتیں نمایاں نمبروں سے پاس کیں۔

ان کے والد گرامی عبدالرحمن خان بلوچ مقامی پوسٹ آفس میں جنرل پوسٹ ماسٹر تھے۔ وہ شاعر بھی تھے اور پاک و ہند کے رسائل میں شاعری کرتے۔

انھوں نے پہلی مرتبہ نظم ’’ کھلونا ‘‘ لکھ کر اپنے والد کو دکھائی جس پر انھوں نے نوک پلک سنوارکر انڈیا کے ایک بچوں کے رسالہ ماہنامہ ’’جریدہ‘‘ میں بجھوا دی ۔

اس حوالے سے وہ بتاتے ہیں کہ ’’ اس نظم کی اشاعت پر میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، یہ نظم میرے خاندانی نام امان اللہ خان بلوچ کے نام شائع ہوئی۔ ‘‘ ساٹھ کی دہائی کی بات ہے جب وہ حصولِ روزگار کے لیے اپنی ہمشیرہ کے پاس رہائش پذیر ہوئے اور مال روڈ پر الفلاح بلڈنگ میں بطور لفٹ آپریٹر سروس کر لی اور جلد ہی اپنی دوسری نظم لفٹ چلاتے ہوئے ’’ لفٹ کی سیر‘‘ لکھی جو بہت سے رسالوں میں شائع ہوئی۔

سن ستر میں لاہور سے شائع ہونے والے رسالہ بچوں کا ڈائجسٹ میں مدیر اعلیٰ کی حیثیت سے 27 برس کام کیا اور اس سنہری دور میں بہت سے شاعروں اور ادیبوں کو متعارف کروایا۔

لاہور سے شائع ہونے والے بہت سے اخبارات میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے صفحات کو ایڈیٹ بھی کروایا۔ اس کے علاوہ بہت سے رسالوں میں لکھا۔

جن میں قابل ذکر ان گنت رسالے شامل ہیں۔ ابصار عبدالعلیؒ ایک جگہ ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ’’ امان اللہ نیئر شوکت نے اپنی زندگی کے شب و روز ادب اطفال کی تخلیق اور بچوں کی ادبی صحافت کے فروغ کے لیے وقف کر رکھے ہیں۔

بچوں کے مقبول ادیب محترم مرزا ادیب کی طرح خاموشی اور خاکساری سے اپنی تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنے عمل کی طرف راغب کرتے رہتے ہیں۔

اس کا اندازہ ان کے رسالہ ’’بچوں کا پرستان‘‘ سے لگایا جا سکتا ہے جس میں انھیں مسلسل بچوں اور بڑوں کا تعاون حاصل ہے جس کی وجہ سے ’’بچوں کا پرستان‘‘ بچوں میں انتہائی مقبول ہے۔

امان اللہ نیئر شوکت ساٹھ سال سے بچوں کے ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے مصروف عمل ہیں، یہ جس قدر ستائش کے مستحق ہیں ان کی اس قدر پذیرائی نہیں ہوئی البتہ کچھ اداروں نے ان کے فن کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔‘‘

امان اللہ نیئر شوکت جہاں چھوٹی سی عمر میں لکھنے کا آغازکیا اورکم عمری میں ہی انڈیا کے رسائل میں خود کو بطور ادیب منوایا، وہیں انھوں نے بڑوں کے لیے کہانیاں اور بچوں کے لیے شاعری بھی لکھی اور سب سے اہم بات ان کی حمدیہ و نعتیہ کلام ہے جسے لکھ کر وہ لطف محسوس کرتے ہیں۔

آج ان کے کریڈیٹ میں بہت سی چیزیں آ چکی ہیں جن میں ’’ دی بُک گروپ‘‘ کراچی والوں کی بچوں کے لیے ’’ جلیبیاں‘‘ کے نام سے اُردو کی درسی کتاب ساتویں جماعت کی شائع کی ہے جس میں پاک و ہند کے معروف شاعروں اور ادیبوں میں ان کا نام بھی شامل ہے۔

اُردو بازار کے ’’ اسکائی پبلی کیشنز‘‘ لاہور، راولپنڈی اور کراچی والوں نے وفاقی وزارتِ تعلیم حکومت پاکستان کے جدید نصاب کے مطابق جماعت اول، دوم اور سوم کے لیے ان کی اور ان کی صاحبزادی عائشہ عمران ممتاز سے کتابیں ’’ اسکائی میری اُردو‘‘ تیارکروائی ہیں، یہ کتب ملک بھر کے اسکولوں میں بچوں کو پڑھائی جا رہی ہیں، جب کہ تعلیمی نصاب کی ایک ساتویں جماعت کی کتاب میں بھی ان کی نظم شامل ہے۔

اس کے علاوہ مختلف اداروں کی جانب سے انھیں نقد کیش انعامات اور ایوارڈز سے بھی نوازا جا چکا ہے اور یہی ایوارڈز ان کے لیے کسی بھی ستارئہ امتیاز سے کم نہیں ہیں۔

امان اللہ نیئر شوکت کی مرتب اور تحریرکردہ کتب میں انوکھا سفر، سہیلی بوجھ پہیلی، صحابہ کرامؓ کی کہانیاں، ہنسنا منع نہیں، شہزادیوں کی کہانیاں، ایجادات، خوبصورت ملی نغمے اور ترانے، لطیفوں کا انسائیکلو پیڈیا، حضرت علیؓ کے سنہرے اقوال، عجائباتِ عالم، اخلاقی حکایتیں، جدید سائنسی معلومات و ایجادات شامل ہیں۔

ان کی اولین شعری مجموعہ زیرِ تکمیل ہے۔ انھوں نے ایسی بچوں کے لیے شاعری لکھی ہے جو بچوں کے لیے سبق آموز اور اصلاحی پہلو سے لبریز ہے کسی بھی شعر پر ندامت نہیں ہوتی، بلکہ ان کی شاعری کو بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی ذوق و شوق کے ساتھ پڑھتے ہیں۔

ان کی شریکِ ہم سفر خود بھی ان کی نثر نگاری کو پڑھ کر ’’ بچوں کا پرستان‘‘ میں لکھتی رہیں۔ جن کی رحلت 2025 ء میں ہوئی۔ ان کی بیٹی عائشہ عمران ممتاز جو بچوں کی معروف شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔

ان کی کہانیاں اور نظمیں بھی بہت سے ادبی رسائل میں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ان کی شادی ملتان کے شہزادے عمران ممتاز سے ہوئی ہے جو خود بھی بہت عمدہ کہانی کار اور ہنس مکھ نوجوان ہے اور بچوں کے لیے ملتان سے ’’ کرن کرن روشنی‘‘ کے نام سے رسالہ شائع کرتے ہیں۔

ان کی کتاب’’ نورِ عالم ‘‘ پر انھیں’’ صدارتی ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ امان اللہ نیئر شوکت کی خواہش ہے کہ میری وفات کے بعد ’’ بچوں کا پرستان ‘‘ کی بھاگ دوڑ میری بیٹی عائشہ عمران ممتاز سنبھالیں گی اور ملک و قوم کی خدمت کریں گی۔

’’بچوں کا پرستان‘‘ یہ رسالہ عرصہ پندرہ سال سے شائع ہو رہا ہے اور پاک و ہند کے بے شمار شہروں اور ملکوں میں اسی فیصد بچے اور بڑے اس کو پڑھتے ہیں جس طرح بچے اور بڑے آج تک ’’عینک والا جن‘‘ ڈرامہ نہیں بھولیں یقینا اسی طرح ’’ بچوں کا پرستان‘‘ پڑھنا بھی نہیں بھولیں گے۔

امان اللہ نیئر شوکت نے جس لگن کے ساتھ ’’ بچوں کا پرستان‘‘ کی اشاعت کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے طویل عرصہ بچوں کا ادب تخلیق کیا، اس کی نظیر کم کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ اپنی جدوجہد کا خلاصہ اپنے ہی خیال میں کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں کہ:

کام سے ہے دوستی محنت سے ہے بس میرا شعار

کاہلی سے بھاگتا ہوں مجھ کو محنت سے ہے پیار

امان اللہ نیئر شوکت کی ہارر کہانیاں ان دنوں ماہنامہ ’’ ڈر‘‘ کراچی میں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ان ہارر کہانیوں کو تخلیق کرنے کا خیال انھیں اُس وقت آیا جب وہ ’’ بچوں کا ڈائجسٹ‘‘ میں ڈراؤنی اور پُراسرار کہانیاں لکھا کرتے تھے۔

ان کی کہانیوں کے موضوع بڑے ہی دلچسپ ہوتے ہیں جو پڑھنے والوں کو دیر تک اپنے آثار میں جکڑے ہوئے رکھتے ہیں۔ بچے پھولوں کی طرح ہوتے ہیں لیکن آج کے جدید دور میں یہ پھول کتاب اور رسالے پڑھنے کی اہمیت کوکم اور موبائل فون کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔

جس سے ان پھول جیسے بچوں کے اخلاق کو بگاڑ کے رکھ دیا ہے، اسی وجہ سے رسالے بچے نہ خریدتے ہیں اور نہ پڑھتے ہیں اور یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہے۔

امان اللہ نیئر شوکت موجودہ کتب بینی کے فروغ کو خسارے میں دیکھ کر رنجیدہ ہیں۔ امان اللہ نیئر شوکت سے میری دوستی کی بنیاد بچوں کے معروف ادیب ابصار عبد العلی نے رکھی۔ جس کا سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔

امان اللہ نیئر شوکت کی کہانیاں اور شاعری کسی قیمتی اثاثہ سے کم نہیں ہے۔ جہاں بہت سے لوگ ہم نے کھو دیے ہیں، وہیں آج امان اللہ نیئر شوکت کے جیسے چند نمایاں چہرے موجود ہیں اُن کی قدر و قیمت کو جانتے ہوئے اُن کی صحبت اختیارکریں میرے اس شعر کے مصداق:

بڑوں کی جب سے صحبت میں مجھے سونپا گیا ہے

مجھے مٹی سے وہ سونا بناتے جا رہے ہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بچوں کا پرستان عمران ممتاز بچوں کے لیے کی کہانیاں اور ادیب انھوں نے کے ساتھ بہت سے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟