لبنان: اسرائیلی فضائی حملے، سینئر حزب اللہ رہنما سمیت 12 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جمعہ کے روز مشرقی اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ایک سینئر حزب اللہ رہنما سمیت کم از کم 12 افراد جاں بحق ہو گئے۔
عالمی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے حزب اللہ اور اس کے فلسطینی اتحادی حماس کو نشانہ بنایا ہے۔
حزب اللہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں مشرقی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں اپنے ایک رہنما کی شہادت کی تصدیق کی گئی ہے، گروپ نے حملے میں مارے جانے والے رہنما کی شناخت محمد ياغی صادق کے نام سے کی ہے۔
دوسری جانب لبنانی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ وادی بیکا میں متعدد مقامات پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور 24 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق، زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق یہ حملے ملک کے سب سے بڑے فلسطینی پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے کے چند گھنٹے بعد کیے گئے، جس میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حزب اللہ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔