سیاسی تربیت اور طلبہ یونین
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کے وسیع سبزہ زاروں پر ایک عجیب سی خاموشی اُگ آئی ہے۔ یہ وہی کیمپس ہیں جہاں کبھی نعروں کی بازگشت ہوا کرتی تھی۔
جہاں بحث و مباحثہ صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں تھا بلکہ زندگی سیاست، انصاف اور مستقبل کے سوالات تک پھیلا ہوا تھا۔ آج جب میں طلبہ یونینوں کی معطلی پر نگاہ ڈالتی ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے ہم نے اپنی نئی نسل کے ہاتھ سے مکالمے کا حق ہی چھین لیا ہو۔
پاکستان کی تاریخ میں طلبہ سیاست کوئی حادثاتی مظہر نہیں تھی۔ قیامِ پاکستان سے پہلے برصغیر کی جامعات میں جو سیاسی شعور پروان چڑھا، اس نے آزادی کی تحریک کو جِلا بخشی۔
قیامِ پاکستان کے بعد بھی نوجوانوں نے اپنے عہد کے سوالوں سے منہ نہیں موڑا۔ 1950 کی دہائی میں ڈاؤ میڈیکل کالج کے چند نوجوانوں نے جب Democratic Students Federation کی بنیاد رکھی، وہ محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک روایت کی داغ بیل ڈال رہے ہیں۔
یہ وہی ڈی ایس ایف تھی جس نے 1953 میں تعلیمی مسائل اور جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کی، لاٹھی چارج اور گولیوں کا سامنا کیا اور نوجوانوں کو یہ سکھایا کہ سیاست صرف اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ اصولوں کی پاسداری کا نام بھی ہے۔
ڈی ایس ایف پر پابندی لگی، اس کے کارکن گرفتار ہوئے مگر خیال کو قید کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اسی فضا سے National Students Federation ابھری۔
این ایس ایف نے 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں جس فکری اور سیاسی تربیت کا ماحول پیدا کیا، وہ محض کیمپس کی چار دیواری تک محدود نہ رہا۔ اس ماحول سے ایسے نوجوان نکلے جنھوں نے بعد میں قومی سیاست، صحافت، ادب اور مزدور تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے ہاں اختلاف رائے جرم نہیں تھا بلکہ سیکھنے کا وسیلہ تھا، وہ مارکس پڑھتے تھے، فیض کوگنگناتے تھے اور ساتھ ہی اپنے عہد کی زمینی حقیقتوں سے جڑے رہتے تھے۔
طلبہ یونینیں محض انتخابی پوسٹروں اور تقریری مقابلوں کا نام نہیں تھیں۔ وہ جمہوری تربیت گاہیں تھیں۔ وہاں ووٹ ڈالنے کا شعور پیدا ہوتا تھا۔ منشور لکھنے کی مشق ہوتی تھی، مخالف سے مکالمہ کرنا سکھایا جاتا تھا۔
اختلاف کو برداشت کرنے اور دلیل سے جواب دینے کی تربیت وہیں پروان چڑھتی تھی۔ یہی وہ نرسری تھی جہاں سے سیاسی بصیرت رکھنے والے رہنما نکلتے تھے۔
جب کوئی نوجوان کلاس روم سے نکل کر جلسے میں تقریر کرتا تھا تو وہ صرف نعرہ نہیں لگاتا تھا بلکہ اپنے اندر ایک اعتماد محسوس کرتا تھا کہ وہ اجتماعی فیصلوں کا حصہ بن سکتا ہے۔
1968 اور 1969 کی تحریک کو کون بھول سکتا ہے؟ ایوب آمریت کے خلاف جب ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ سڑکوں پر نکلے تو ان کے ساتھ مزدور اور متوسط طبقہ بھی شامل ہوا۔
یہ اتحاد اچانک پیدا نہیں ہوا تھا، اس کے پیچھے برسوں کی تنظیم سازی مطالعہ اور مکالمہ تھا۔ یہی وہ دور تھا جب نوجوانوں نے آمریت کے ایوانوں کو یہ پیغام دیا کہ تاریخ کا پہیہ بند کمروں میں نہیں روکا جا سکتا۔
اس تحریک نے نہ صرف ایک آمرکو رخصت کیا بلکہ سیاست کے افق پر نئی سوچ کو بھی جنم دیا۔بدقسمتی سے ضیاء الحق کے دور میں طلبہ یونینز پر پابندی لگا دی گئی۔ دلیل یہ دی گئی کہ کیمپس میں تشدد بڑھ رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا تشدد کا حل جمہوری عمل کو معطل کرنا تھا؟ کیا ہمیں اصلاح کی طرف جانا چاہیے تھا یا مکمل خاموشی کی طرف؟ اس پابندی نے ایک پوری نسل کو سیاست کے ابتدائی تجربے سے محروم کردیا۔
جب آپ نوجوانوں سے منظم ہونے کا حق چھین لیتے ہیں تو وہ یا تو بے حسی کا شکار ہو جاتے ہیں یا پھر غیر منظم اور شدت پسند گروہوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
آج کی یونیورسٹیوں میں طلبہ موجود ہیں، مسائل بھی موجود ہیں مگر اجتماعی آوازکمزور ہے۔ فیسوں میں اضافہ ہو، ہاسٹل کے مسائل ہوں یا نصاب کی فرسودگی زیادہ تر احتجاج سوشل میڈیا کی پوسٹ تک محدود رہ جاتا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا نے اظہارکے نئے راستے ضرور دیے ہیں مگر اس میں وہ تربیتی عمل نہیں، جو ایک باقاعدہ یونین فراہم کرتی ہے۔ یونین کا انتخاب لڑنا، منشور بنانا، ساتھیوں کو قائل کرنا، یہ سب سیاسی پختگی کی سیڑھیاں ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے کئی رہنما طلبہ سیاست سے ابھرے۔ انھوں نے کیمپس میں تنظیم سازی سیکھی، جلسے منظم کیے، اختلاف کا سامنا کیا۔
یہی تجربہ بعد میں قومی سطح پر ان کے کام آیا، اگر آج ہمیں سیاست میں برداشت مکالمے اور نظریاتی سنجیدگی کی کمی محسوس ہوتی ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اس نرسری کو ویران کردیا ہے جہاں یہ اوصاف پنپتے تھے۔
یقینا ماضی مثالی نہیں تھا۔ طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم بھی ہوئے، اسلحہ بھی آیا اور بعض اوقات بیرونی سیاسی قوتوں نے کیمپس کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا، مگرکیا کسی ادارے کی خرابی اس کی مکمل نفی کا جواز بن سکتی ہے؟
جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ وہ غلطیوں سے سیکھتی ہے خود کو بہتر بناتی ہے، اگر ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کرایا جاتا، اسلحے پر مکمل پابندی لگتی اور انتظامیہ غیر جانبدار رہتی تو شاید صورت حال مختلف ہوتی۔ایک ترقی پسند سماج اپنے نوجوانوں سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔
وہ انھیں سوال کرنے، منظم ہونے اور اختلاف کرنے کا حق دیتا ہے،کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہی سوال کل کو سماجی انصاف برابری اور جمہوری استحکام کی بنیاد بنیں گے۔
جب ہم طلبہ یونینزکی بحالی کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم اس امید کی بات کر رہے ہوتے ہیں کہ ہماری سیاست دوبارہ نظریاتی سنجیدگی اور عوامی مسائل کی طرف لوٹے۔
مجھے یاد ہے کہ ایک زمانے میں یونیورسٹی کی دیواروں پر چسپاں پوسٹر محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہوتے تھے وہ خوابوں کے منشور ہوتے تھے۔
ان خوابوں میں ایک زیادہ منصفانہ سماج کی تصویر ہوتی تھی۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ان خوابوں کو دوبارہ جگہ دیں۔
طلبہ یونینز کی بحالی کوئی انقلابی نعرہ نہیں، یہ جمہوری تسلسل کی ایک کڑی ہے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں سیاسی بصیرت اخلاقی جرات اور اجتماعی شعور کے ساتھ آگے بڑھیں تو ہمیں ان کی آواز پر عائد یہ طویل خاموشی ختم کرنا ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی طرف
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم