چین نے جوہری ہتھیاروں کی نئی نسل تیار کی ہے، سی این این
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
رپورٹ کے مطابق چین جو کم پیداوار والے جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے وہ قریب جغرافیائی فاصلے پر اہداف کے خلاف تعینات اور استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی ٹی وی چینل سی این این نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے ایک ٹیکٹیکل ہتھیار تیار کر لیا ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی انٹرنیشنل گروپ کے مطابق امریکی سی این این نیٹ ورک نے باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ چین کم پیداوار والے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے، وہ ہتھیار جو اس نے پہلے کبھی نہیں بنائے تھے۔ نیٹ ورک نے اپنی رپورٹ کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے جاری رکھا کہ چین جو کم پیداوار والے جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے وہ قریب جغرافیائی فاصلے پر اہداف کے خلاف تعینات اور استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چینی حکام نے ابھی تک سی این این کے دعوے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہتھیار تیار کر جوہری ہتھیار
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔