سابق ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ اپنے عہدے پر بحال
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
پیر محمد شاہ کو 30جنوری کو معروف تاجر کے اغوا اور بھتہ وصولی کے الزام پر ہٹایا گیا تھا
دانش متین نے پیر محمد شاہ کے خلاف ایف آئی آر گِزری تھانے میں درج کروائی تھی
(رپورٹ/ ایم جے کے )معاملات طے ، سابق ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ اپنے عہدے پر بحال، پیر محمد شاہ کو 30 جنوری 2026 کو معروف تاجر کے اغوا اور بھتہ وصولی کے الزام پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا، دانش متین نے پیر محمد شاہ کے خلاف ایف آئی آر 22 جنوری 2026 کو گِزری پولیس اسٹیشن، کراچی میں درج کروائی تھی۔ اغوا اور بھتے کے الزام پر 30جنوری 2026کو ہٹائے جانے والے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کو 21فروری 2026 کو بحال کر دیا گیا نوٹس چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی جانب سے نکالا گیا جس میں ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کو دوبارہ اپنے عہدے پر بحال کر دیا گیا، پیر محمد شاہ کے خلاف 22جنوری 2026 کو کراچی کے معروف تاجر دانش متین نے اغوا، بھتہ وصولی کے حوالے سے گزری تھانے میں ایف آئی ار درج کروائی تھی، اس ایف آئی آر کا کیا ہوا اس پر ذرائع بتاتے ہیں کہ پیر محمد شاہ اور کراچی کے تاجر دانش متین کے درمیان سندھ حکومت نے معاملات طے کروا دیے ہیں جس بنا پر پیر محمد شاہ کو دوبارہ ڈی آئی جی ٹریفک تعینات کر دیا گیا ہے ، تفصیلات کے مطابق پیر محمد شاہ کو 30 جنوری 2026 کو ڈی آئی جی ٹریفک کراچی کے عہدے سے ہٹانے کی دو بڑی وجوہات سامنے آئیں تھیں پہلی یہ کہ گل پلازہ واقعے کے بعد ٹریفک انتظام میں ناکامی تھی، ماہ جنوری 2026 میں کراچی کے مشہور تجارتی مقام گل پلازہ میں ایک بھیانک آگ لگ گئی جس میں 70 سے زائد افراد جان سے گئے اور بہت سی املاک تباہ ہوئیں، واقعے کے فوراً بعد اندرونی ذرائع نے بتایا کہ شہر میں ٹریفک کے انتظام میں شدید بدانتظامی رہی، جس کی وجہ سے فائر بریگیڈ اور ریسکیو گاڑیوں کو موقع پر پہنچنے میں شدید تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، اس امر کی وجہ سے حکومتی حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ ٹریفک انچارج افسر نے اپنے فرائض پوری صلاحیت سے انجام نہیں دیے ، اس سانحے کے دوران ٹریفک جام کی وجہ سے ایمبولینس اور ریسکیو گاڑیاں بروقت نہیں پہنچ سکیں یہی نکتہ عموماً سرکاری حلقوں اور ذرائع ابلاغ نے ڈی آئی جی ٹریفک کے خلاف ذمہ داری طے کرتے ہوئے پیش کیا تھا اور اسی بنیاد پر ان کی ہٹانے کا نوٹیفکیشن 29 جنوری 2026 کو جاری کیا اور انکی جگہ مظہر نواز شیخ کو مقرر کیا گیا تھا، دوسری اور اہم وجہ مبینہ اغوا/استعمالِ اختیار کا معاملہ سامنے آیا جس میں ایک معروف تاجر کے مبینہ اغوا اور رقوم کے وصولی کے حوالے سے تھا۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ کاروباری شخص دانش متین نے پیر محمد شاہ کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی تھی، جس میں انھیں اغوا اور بھتہ (رعایتی رقوم کا مطالبہ) کا الزام لگایا گیا تھا یہ مقدمہ گِزری پولیس اسٹیشن، کراچی میں درج کیا گیا تھا، کراچی کے کاروباری شخص دانش متین کا کہنا تھا کہ 14 جنوری 2026 کو ڈی ایچ اے ، کراچی سے اپنے دفتر جا رہا تھا کہ 3افراد نے سفید کار میں روکا، دو پولیس یونیفارم میں تھے ، انھوں نے 31 کروڑ سے زائد رقم کا مطالبہ کیا اور چھوٹے حصے میں 1ملین روپے (10لاکھ) دینے کے بعد چھوڑ دیا دانش متین کے مطابق اسی دن گِزری پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی، بعدازاں تاجر دانش متین نے پیر محمد شاہ کے خلاف ایف آئی آر 22 جنوری 2026 کو گِزری پولیس اسٹیشن، کراچی میں درج کروا دی، اس میں انھوں نے اغوا (Section 365-A)اور بھتہ/رقم طلب کرنے کے الزامات شامل کیے تھے ، 22 جنوری 2026 سے 21 فروری 2026 کے درمیان پیر محمد شاہ اور دانش متین کے درمیان چلنے والے معاملات کے حوالے سے مختلف خبریں سامنے آتی رہیں اور آخر کار دونوں کے درمیان معاملات طے پاگئے ، باوثوق ذرائع بتاتے ہیں کہ دانش متین پیر محمد شاہ کا قریبی دوست ہے اور کئی معاملات میں بزنس پارٹنر بھی رہے ہیں، پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایف آئی آر میں نامزد پولیس افسر سی آر او سے بالاتر کیسے ہے اب تک اور ایف آئی آر کا اب تک کورٹ میں چالان پیش کیوں نہیں ہوا جبکہ ایک ماہ سے زائد وقت گزر چکا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ گ زری پولیس اسٹیشن پیر محمد شاہ کو درج کروائی تھی جنوری 2026 کو معروف تاجر کے درمیان کراچی کے کے الزام اغوا اور اور بھتہ وصولی کے گیا تھا
پڑھیں:
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عالمی فٹبال کے کئی نامور ستاروں کو پورے ایونٹ میں بہترین کھیل کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منتخب ٹیم میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو فرنٹ لائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔
مڈفیلڈ میں ورلڈ کپ کے گولڈن بال کے فاتح اور اسپین کے کپتان روڈری ، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے کو جگہ دی گئی ہے، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو ، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو اور ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز بھی دفاع کا حصہ ہیں۔
فیفا کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، ٹیم پر اثراندازی اور پورے ایونٹ کے دوران مستقل بہترین کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب فیفا نے ورلڈ کپ کے اختتام پر نئی عالمی رینکنگ بھی جاری کر دی ہے۔ نئی عالمی چیمپئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی، جبکہ رنر اپ ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔
رینکنگ میں فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ برازیل اور مراکش ایک، ایک درجہ ترقی کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
ادھر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال دو درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئی، جبکہ میزبان میکسیکو نے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت چار درجے ترقی کرکے ٹاپ ٹین میں جگہ بنا لی۔
ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ناروے کی ٹیم نے بھی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کی اور عالمی رینکنگ میں 19ویں پوزیشن حاصل کر لی۔