وفاقی عدالتوں‘ ٹریبونلز میں 1 لاکھ سے زاید کیسز زیر التوا‘ دستاویزات
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(صباح نیوز) وزارت قانون و انصاف کی وفاقی خصوصی عدالتوں کی کارکردگی سے متعلق اہم دستاویزات سامنے آگئیں۔ وزارت قانون و انصاف کے دستاویزات کے مطابق ملک کی 170 وفاقی عدالتوں اور ٹریبونلز میں کیس فلو مینجمنٹ سسٹم فعال کر دیا گیا، جنوری 2023ء سے اب تک وفاقی عدالتوں میں کل 2 لاکھ 40 ہزار 52 کیسز فائل ہوئے۔ دستاویزات کے مطابق وفاقی عدالتوں اور ٹریبونلز میں اس وقت 1 لاکھ 24 ہزار 944 کیسز زیر التوا ہیں، جنوری 2023ء سے اب تک مجموعی طور پر1 لاکھ 15 ہزار 108 کیسز نمٹائے جا چکے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق39 فوجداری عدالتوں اور 14 جیلوں میں وڈیو لنک کی سہولت فراہم کر دی گئی، ایپلیٹ ٹریبونلز ان لینڈ ریونیو میں سب سے زیادہ1 لاکھ 12 ہزار 496 کیسز فائل ہوئے جبکہ بینکنگ کورٹس میں فائل ہونے والے 79 ہزار 326 کیسز میں سے 48 ہزار 972 نمٹا دیے گئے، منشیات کی خصوصی عدالت میں 5299 کیسز فائل ہوئے، 2462 نمٹا دیے گئے۔ دستاویزات کے مطابق ڈرگ کورٹس میں کل 2727 کیسز درج ہوئے جن میں سے 1700 کے فیصلے سنا دیے گئے کسٹم، ٹیکسیشن اور اینٹی اسمگلنگ کورٹس میں 2443 کیسز فائل ہوئے، 1436 زیر التوا ہیں جبکہ پراپرٹی ٹریبونلز میں کل 3545 کیسز فائل ہوئے، جن میں سے 2000 نمٹا دیے گئے، اسی طرح انشورنس ایپلیٹ ٹربیونل میں 1246 کیسز فائل ہوئے، 809 کے فیصلے ہو چکے اور نیپرا میں 1083 کیسز میں سے 551 نمٹائے گئے، احتساب عدالتوں میں 575 کیسز فائل ہوئے، 264 زیر التوا ہیں۔ دستاویزات کے مطابق گیس یوٹیلیٹی کورٹ میں 571 کیسز میں سے 448 تاحال زیر التوا ہیں، اینٹی ڈمپنگ ایپلیٹ ٹریبونلز میں 356 کیسز میں سے 272 نمٹا دیے گئے، اسی طرح فارن ایکسچینج ریگولیشن ایپلیٹ بورڈ میں 330 کیسز فائل ہوئے، 186 زیر التوا ہیں، کمپٹیشن ایپلیٹ ٹریبونلز میں 256 کیسز میں سے 191 نمٹائے جا چکے ہیں جبکہ انسداد دہشت گردی عدالتوں میں کل 243 کیسز فائل ہوئے، جن میں سے 147 کے فیصلے سنائے گئے، میڈیکل ٹریبونلز میں 82 کیسز فائل ہوئے، صرف 6 نمٹائے گئے اور انوائرنمنٹل پروٹیکشن ٹریبونلز میں 78 کیسز میں سے 61 کے فیصلے سنا دیے گئے۔ دستاویزات کے مطابق کمرشل کورٹس میں 23 کیسز فائل ہوئے، تمام 23 کیسز تاحال زیر التوا ہیں، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کورٹ میں 7 میں سے 5 کیسز نمٹا دیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دستاویزات کے مطابق کیسز فائل ہوئے وفاقی عدالتوں زیر التوا ہیں نمٹا دیے گئے کیسز میں سے کورٹس میں کے فیصلے میں کل
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں