خطے میں پائیدارامن و استحکام حق خودارادیت کی بنیاد پر تنازعہ کشمیر کے حل سے ہی ممکن ہے، مسرت عالم بٹ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر حل نہ ہونے سے نہ صرف کشمیریوں کو بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے بلکہ یہی مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ بھی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر نظربند کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی حق خودارادیت کی بنیاد پر تنازعہ کشمیر کے حل سے ہی ممکن ہے جس کا وعدہ کشمیری عوام سے اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مسرت عالم بٹ نے نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل سے اپنے ایک پیغام میں بھارت پر زور دیا کہ وہ فوجی طاقت کے بل پر جموں و کشمیر پر قبضے کی پالیسی ترک کر کے کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے کا اپنا وعدہ پورا کرے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر حل نہ ہونے سے نہ صرف کشمیریوں کو بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے بلکہ یہی مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ بھی ہے۔ مسرت عالم بٹ نے کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی تنازعہ کشمیر کو خوش اسلوبی سے حل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت خود یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا اور عالمی برادری کے سامنے کشمیریوں سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں عالمی ادارے کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا لیکن بعد میں بھارت اپنے وعدے سے مکر گیا اور جب کشمیریوں نے اسے اپنا وعدہ یاد دلانے کی کوشش کی تو انہیں ہر قسم کے مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ بھارتی مظالم کے باوجود کشمیری حق خودارادیت کے حصول کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے اپنے جائز حق کے لئے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اپنی منظور شدہ قرار دادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرانے کے لیے بھارت پر دباﺅ ڈالے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ حق خودارادیت مسرت عالم بٹ
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔