صحافی ٹی بی سے متعلق رپورٹنگ میں رازداری اور وقار کو یقینی بنائیں‘مقررین
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260222-02-20
کراچی (اسٹاف رپورٹر) برج کنسلٹنٹس فاؤنڈیشن (BCF) نے ہیلتھ میٹرز میڈیا کے اشتراک سے ڈرگ سنسیٹو (DS) اور ڈرگ ریزسٹنٹ (DR) تپ دق سے متعلق ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے موضوع پر ہوٹل مہران میں میڈیا سنسیٹائزیشن سیشن کا انعقاد کیا۔ یہ سیشن CFCS 2025 پروجیکٹ کے تحت منعقد ہوا جس کی معاونت اسٹاپ ٹی بی پارٹنرشپ کے ذریعے یونائیٹڈ نیشنز آفس فار پراجیکٹ سروسز (UNOPS) نے کی۔ سیشن میں پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں نے شرکت کی، جس کا مقصد پاکستان میں تپ دق سے متعلق شواہد پر مبنی اور اخلاقی رپورٹنگ کو فروغ دینا تھا۔سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سید شرف علی شاہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر بی سی ایف نے پاکستان میں ٹی بی کے مسلسل بوجھ اور قومی و عالمی سطح پر اینڈ ٹی بی اہداف کے حصول کے لیے مربوط اور کثیرالجہتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ڈاکٹر ثمرین قریشی، ایڈیشنل ڈائریکٹر کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول سندھ نے کیس ڈٹیکشن کو بہتر بنانے، علاج کی تکمیل کو یقینی بنانے اور غلط معلومات کے تدارک کی اہمیت اجاگر کی۔ پروفیسر رفیق خانانی، سینئر پبلک ہیلتھ ماہر نے ٹی بی سے متاثرہ افراد کے وقار کے تحفظ کے لیے بدنامی سے پاک اور حقوق پر مبنی ابلاغ کی ضرورت پر زور دیا۔ اختر شاہین رند، سینئر صحافی، ہیلتھ اینڈ پبلک انٹرسٹ کمیونیکیشن اسپیشلسٹ اور ایڈیٹر ان چیف ہیلتھ میٹرز میڈیا نے عوامی رائے سازی، پالیسی مکالمے پر اثرانداز ہونے اور شعبہ صحت میں احتساب کے فروغ میں ذمہ دار صحافت کے کردار کو نمایاں کیا۔ انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ انسان دوست زبان اختیار کریں، سنسنی خیزی سے گریز کریں اور ٹی بی سے متعلق رپورٹنگ میں رازداری اور وقار کو یقینی بنائیں۔ وحید خٹک، پروگرام مینیجر بی سی ایف نے کمیونٹی انگیجمنٹ اقدامات اور ٹی بی کی تشخیص و علاج تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔تقریب کا ایک اہم حصہ ڈی ایس/ڈی آر ٹی بی پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے لیے تیار کردہ میڈیا ٹول کٹ کی رونمائی اور تقسیم تھی، جسے اختر شاہین رند اور وحید خٹک نے تحریر کیا۔ اس ٹول کٹ میں درست اصطلاحات، اخلاقی اصولوں، صنفی حساس انداز اور انسانی حقوق کے تقاضوں سے متعلق رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ منتظمین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی آگاہی میں اضافے، بدنامی کے خاتمے اور پاکستان سے تپ دق کے خاتمے کی قومی کوششوں کی حمایت کے لیے میڈیا اور صحت کے شعبے کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔