’’شناختی کارڈ کوئی لگژری نہیں، بنیادی ضرورت ہے‘‘ بلاک کرنے کا حکم کالعدم قرار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کروانے کے لیے شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے حکم کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
جسٹس منیب اختر نے 3 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ شناختی کارڈ کوئی لگژری نہیں بلکہ عام زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا عدالتیں کل کو رقم کی واپسی کے لیے بھی بجلی اور پانی کے کنکشن کاٹنے کا حکم دیں گی؟ فیصلے میں کہا گیا کہ کسی شہری کو شناختی کارڈ سے محروم کرنا زندگی کا بنیادی حق چھیننے کے مترادف ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ضابطہ دیوانی کے سیکشن 51 کے تحت شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ۔ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے سی پی سی میں کی گئی ترمیم کا اطلاق صوبہ سندھ پر نہیں ہوتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون میں صریح حکم کے بغیر کوئی بھی عدالت کسی شہری کا شناختی کارڈ بلاک نہیں کر سکتی۔
فیصلے کے مطابق 2016ء میں ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف رقم کی ادائیگی کی ڈگری جاری کی تھی۔ رقم کی عدم ادائیگی پر ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیا تھا، جسے سندھ ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
واضح رہے کہ درخواست گزار کیخلاف پراپرٹی کیس میں ڈگری جاری کی گئی تھی اور درخواست گزار کو طے کردہ رقم جمع کروانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل شناختی کارڈ بلاک درخواست گزار بلاک کرنے کورٹ نے
پڑھیں:
نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NAPRA) نے 1 روپیہ 73 پیسے بجلی مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نیپرا نے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کراچی سمیت ملک بھر کےلیے بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔
مزید پڑھیں:دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
نیپرا اعلامیے کے مطابق سی پی پی اے کی اپریل کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔