Express News:
2026-07-23@23:31:16 GMT

ایپسٹین فائل : سوال فرد پر نہیں نظام پر ہے

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

کچھ عرصہ قبل سے عالمی میڈیا پر ایک لفظ چھایا ہوا ہے ’’ایپسٹین فائل‘‘ یہ جیفری ایپسٹین نامی ایک مجرم کی کہانی، جو مبینہ طور پر دنیا کی طاقتور ترین شخصیات کو اپنے جال میں لپیٹے ہوئے تھا۔

تفصیل اِس اجمال کی بہت ہے، بہت کچھ سامنے آگیا ہے اور بہت کچھ سامنے آنا ابھی باقی ہے۔ 30 جنوری 2026 کو امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ 3.

5 ملین صفحات، 2000 ویڈیوز اور تقریباً 180,000 تصاویر نے اس معاملے کو ایک نیا اور انتہائی خطرناک موڑ دے دیا ہے، لیکن اب تک اِس تمام معاملے کو ایک فرد کی خطا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ محض ایک فرد کے قبیح جرائم کی روداد ہے؟ ہماری رائے میں ان دستاویزات نے سب سے بڑا انکشاف یہ کیا ہے کہ ایپسٹین جیسے شیطان کو پروان چڑھانے والا کوئی فرد نہیں، بلکہ ایک پورا نظام ہے۔

سوال اب فرد پر نہیں، بلکہ اس نظام پر ہے جس نے ترقی، آزادی اور مساوات کے دعوے کرتے ہوئے انسانیت کو شرمسارکیا۔

مغرب کی بلند و بالا اخلاقی عمارتیں جب زمیں بوس ہوتی ہیں تو ان کی دھول دور دور تک اڑتی ہے اور آج کل ’ ایپسٹین فائلز‘ کی صورت میں یہی گرد پوری دنیا کے ایوانوں میں بیٹھی دکھائی دے رہی ہے۔ مغرب نے ہمیشہ تین بڑے نعروں پر اپنی برتری کی بنیاد رکھی۔

آزادی، ترقی اور مساوات۔ لیکن ایپسٹین کیس نے ثابت کردیا ہے کہ یہ ستون محض ریت کی دیواریں تھیں۔

مغرب، خاص طور پر امریکا اور برطانیہ، نے صدیوں سے خود کو روشن خیالی کا علم بردار قرار دیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ عقل و دانش کی روشنی میں انسانیت کو ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جا رہے ہیں، مگر ایپسٹین فائل نے اس دعوے کی نہ صرف دھجیاں بکھیر دی ہیں، بلکہ ایک مرتبہ پھر یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ یہ روشن خیالی محض ایک ہے۔

یہ کیسا نظام ہے جہاں 1996 میں پہلی بار ایک نوجوان لڑکی نے ایف بی آئی کے سامنے جنسی زیادتی کا الزام لگایا، مگر اس کی آواز کو سننے والا کوئی نہ تھا؟

یہ کیسا نظام ہے جہاں 2008 میں ایک مجرم کو صرف 13 ماہ کی سزا ہوئی اور وہ بھی اس شرط پرکہ وہ دن میں 12 گھنٹے باہرگزار سکتا ہے؟ یہ کیسا نظام ہے جہاں 2019 میں اس مجرم کو جیل میں مردہ پایا گیا اور قتل یا خودکشی کے حالات آج تک ایک معمہ بنے ہوئے ہیں؟

یہ صرف بدقسمتی نہیں یہ نظام کا دیا ہوا تحفہ ہے۔ امریکی محکمہ انصاف، ایف بی آئی اور عدلیہ کا وہ عظیم الشان ڈھانچہ جس پر دنیا کو ناز تھا، ایک درجن سے زائد مرتبہ ناکام ہوا۔

اس ناکامی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ہزار سے زائد متاثرین کو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو سہنا پڑا۔ آپ دیکھیں حالیہ دستاویزات میں بھی سیکڑوں ناموں کو خفیہ رکھا گیا ہے، کیوں؟

کانگریس کے دو اراکین تھامس میسی اور روکھنہ کو جب خود جا کر محکمہ انصاف کے دفاتر کا معائنہ کرنا پڑا تو پتہ چلا کہ کم ازکم چھ افراد کے نام جان بوجھ کر چھپائے گئے تھے۔ کیا یہ ہی انصاف ہے؟ اسے ہی شفافیت کہتے ہیں؟

اب ذرا مغرب کے ان ترقی یافتہ معاشروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جنھوں نے اپنے آپ کو انسانیت کا امام کہلوایا۔ ایڈلمین ٹرسٹ بیرومیٹر 2025 کے مطابق، صرف 30 فیصد امریکی شہری اپنے روشن مستقبل پر یقین رکھتے ہیں، جب  کہ کئی نسبتاً غیر ترقی یافتہ ممالک میں یہ تناسب 70 فیصد تک ہے۔

فرانس میں صرف 9 فیصد، جرمنی میں 14 فیصد اور برطانیہ میں 17 فیصد لوگوں کو اپنے مستقبل پر بھروسہ ہے۔کیا یہ وہی ممالک نہیں، جو دنیا کو جمہوریت، آزادی اور مساوات کا درس دیتے ہیں؟

اعداد و شمار مزید بھیانک حقائق پیش کرتے ہیں۔ امریکا اور برطانیہ میں شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے جب  کہ ترقی پذیر ممالک میں یہ مسلسل گر رہی ہے۔

امریکا اور برطانیہ میں متوقع عمر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ نیویارک اور واشنگٹن کے امیر ترین طبقے میں تو لوگ 100 سال بھی جی رہے ہیں، مگر سفید فام غریب طبقے میں مردوں کی متوقع عمر بہ مشکل 60 سال ہے۔

شراب، منشیات اور موٹاپے کی وبا نے اس تباہی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ امریکا میں 16 سے 24 سال کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد فوج میں بھرتی ہونے کے قابل نہیں ہے، کیونکہ وہ جسمانی طور پر صحت مند نہیں ہیں۔ یہ وہ قوم ہے جو دنیا پر فوجی تسلط کی خواہاں ہے۔

ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ایپسٹین کا یہ پورا نیٹ ورک اخلاقی اقدار کے مکمل فقدان کی عکاسی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن ملحدین نے اپنی زندگیوں کو اس قدر آلودہ کر لیا کہ ان کی اپنی تنہائیاں بے راہ روی سے پاک نہ رہ سکیں، وہ مذہب پر سوال اٹھانے کے حق دار کیسے ٹھہرے؟

رچرڈ ڈاکنز جیسے نام نہاد روشن خیال مفکرین نے برسوں سے مذہب کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہب انسان کو جکڑتا ہے، اس کی عقل کو پائمال کرتا ہے اور اسے عدم برداشت کا خوگر بنا دیتا ہے، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

’’ جدید الحاد کے سب سے بڑے وکیل ریچرڈ ڈاکنز سے جب پوچھا گیا کہ اگرکائنات میں کوئی ’’ اخلاقی مطلق‘‘ نہیں تو اچھے برے کی تمیزکیسے ہوگی؟ تو ان کا سرد جواب تھا کہ کائنات میں نہ کوئی خیر ہے نہ شر، بس ایک بے رحم بے حسی ہے۔

یہ اعتراف دراصل ایپسٹین جیسے درندوں کے لیے ایک فکری جواز فراہم کرتا ہے، اگر اخلاقیات محض ایک ’ انسانی ایجاد‘ ہیں، تو پھر اس نظام پر اعتراض کیسے کیا جا سکتا ہے جو طاقتور کو اپنی مرضی کی اخلاقیات ایجاد کرنے کی چھوٹ دیتا ہے؟ ‘‘

یہ کوئی اتفاق نہیں کہ دوستوفسکی نے کہا تھا ’’ اگر خدا نہیں ہے تو سب کچھ جائز ہے‘‘ ایپسٹین فائل اس جملے کی عملی تفسیر ہے۔ یہ وہ منطق ہے جس نے ہزاروں بچیوں کو ایک شیطان کے حوالے کردیا۔ یہ وہ فلسفہ ہے جس نے امریکی محکمہ انصاف کو بتایا کہ ’’ مسٹر ایپسٹین کے ساتھ پارٹی کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔‘‘

آج مغربی نظام عدل پر اعتماد کا بحران طاری ہے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینئر فیلو ڈیرل ویسٹ کہتے ہیں کہ ’’ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش نہیں ہوگی، مزید فردِ جرم عائد نہیں کی جائے گی، لیکن برے رویے کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ لوگ اس طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہیں۔‘‘

یہ سوال صرف ایپسٹین تک محدود نہیں۔ یہ سوال پورے نظام سے ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس نے 1996 سے 2019 تک آنکھیں بند رکھیں۔ یہ وہ نظام ہے جس نے ایک غیر قانونی معاہدے کے تحت مجرم کو بچایا۔

یہ وہ نظام ہے جس نے حالیہ دستاویزات میں بھی طاقتوروں کے نام چھپائے… اور… اور یہ تاریخ کا وہ بدترین نظام ہے جہاں ایپسٹین جیسے افراد کا وجود و نمو ممکن ہے، وہ نظام جس نے مجرموں کو پروان چڑھایا، ان کی حفاظت کی اور آج بھی ان کے نام چھپا کر انسانیت کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ طاقت ہی اصل سچ ہے۔ سوال فرد پر نہیں، نظام پر ہے اور یہ نظام پوری انسانیت کے لیے ننگِ عظیم ہے۔

یہ ہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم اس نظام کو قبول کریں گے جہاں اخلاقیات کا کوئی مطلق نہیں، جہاں ’’ سب کچھ جائز‘‘ ہے، یا پھر ہم اس راستے پر واپس جائیں گے جہاں انسانیت کی فلاح کے لیے اخلاقی اقدارکا احترام ضروری ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایپسٹین فائل نظام ہے جہاں اور برطانیہ محکمہ انصاف ہے جس نے وہ نظام کو ایک میں یہ ہے اور دیا ہے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف