بھارت،بارات آنے سے قبل 2 دلہن بہنوں کی خودکشی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
جودھ پور:راجستھان کے علاقے جودھ پور کے سور ساگر تھانہ کے دائرہ اختیار میں منائی گائوں میں ہفتہ کو ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں 2 دلہن بہنوں کی موت کی خبر منظر عام پر آئی۔
اہم بات یہ ہے کہ اسی دن ان کی شادی طے تھی اور شادی کی بارات آنے والی تھی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانہ میں جمع کروا دیا۔
اے ڈی سی پی ویسٹ روشن مینا نے بتایا کہ متوفی بہنیں شوبھا اور وملا منائی گاو ¿ں کے رہنے والے دیپ سنگھ کی بیٹیاں تھیں۔
ان کی شادی اسی دن طے تھی اور شادی کی بارات آج آنی تھی لیکن اس سے پہلے ہی انہوں نے یہ انتہائی قدم اٹھا لیا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جائے گا۔ پولیس نے ابتدائی تفتیش شروع کر دی ہے اور اہل خانہ سے پوچھ گچھ کر رہی ہے، دونوں بہنیں ایک پرائیوٹ ا سکول میں ٹیچر تھیں۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے مطابق، جمعہ کی دیر رات گھر میں شادی کی تقریب منعقد کی گئی تھی۔ رات 12 بجے کے قریب دونوں بہنیں اپنے کمرے میں سونے چلی گئیں۔
صبح چار بجے کے قریب ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی، اہل خانہ نے انہیں فوری طور پر جودھ پور کے ایک پرائیوٹ اسپتال پہنچایا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا، جس کے بعد لاشیں گھر واپس لائی گئیں۔
لڑکیوں کے ماموں جسونت سنگھ نے بتایا کہ انہیں صبح 5 بجے کے قریب فون پر چھوٹی بہن سے واقعہ کی اطلاع ملی، انہوں نے فوری طور پر دیگر رشتہ داروں سے بات کی اور پولیس کو اطلاع دی۔
پولیس کی ایک ٹیم صبح 6 بجے منائی گائوں پہنچی جہاں کنبہ آخری رسومات کی تیاری کر رہا تھا۔ جسونت سنگھ نے بتایا کہ دونوں لاشیں نیلی پڑ چکی تھیں۔
جسونت سنگھ نے بتایا کہ ان کی بھابھی کے بھائیوں کے دبائومیں دونوں بھانجیوں کی شادی اصل میں بھنمل میں طے شدہ تھی، بعد میں اسے منسوخ کر کے پوکھران کے جیملا گائوں میں طے کی گئی۔
ہمارے کو بہن کے پاس نہیں آنے دیتے تھے، چار روز قبل اس کی بہن اور بہنوئی شادی کا کارڈ دینے گھر آئے تھے۔
جسونت سنگھ نے الزام لگایا کہ دیپ سنگھ کے چھوٹے بھائی کی وجہ سے دونوں نے اپنی جان لے لی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل جسونت سنگھ نے نے بتایا کہ
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔