کیا نظریاتی سیاست کا عہد ختم ہوگیا؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں جماعت اسلامی سے نفرت کرنے والوں کی کمی نہیں۔ لیکن جماعت اسلامی سے نفرت کا سبب خود جماعت اسلامی نہیں بلکہ اس کا نظریہ یعنی اسلام ہے۔ چنانچہ سیکولر، لبرل اور سوشلسٹ عناصر چاہتے ہیں کہ پاکستان کیا بنگلا دیش سے بھی جماعت اسلامی کا خاتمہ ہوجائے۔ تا کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ وجاہت مسعود پاکستان کے معروف سیکولر دانش ور ہیں۔ ان کا بس چلے تو وہ جماعت اسلامی کیا اسلام ہی کا خاتمہ کردیں۔ ان کی جماعت اسلامی سے نفرت کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے اپنے ایک حالیہ کالم میں لکھا ہے کہ جماعت اسلامی کو بنگلا دیش کے انتخابات میں بدترین شکست ہوئی ہے اور ایسا اس لیے ہوا کہ دنیا سے نظریاتی سیاست کا عہد ختم ہوگیا ہے اور دنیا نظریاتی سیاست سے بہت آگے نکل گئی ہے۔ (روزنامہ جنگ، 11 فروری 2026ء)
انسانیت کی پوری تاریخ نظریات کی تاریخ ہے اور بنیادی نظریے صرف دو ہیں۔ حق اور باطل۔ حق وہ ہے جو خدا نے انبیا و مرسلین کے توسط سے مذہب کی صورت میں انسانوں تک پہنچایا اور باطل وہ ہے جو ہدایت ِ ربّانی کی ضد ہے۔ خواہ وہ انسان کی انا ہو، اس کی خود پرستی ہو، بادشاہت ہو، نسل پرستی یا قوم پرستی ہو یا سیکولر ازم، لبرل ازم اور سوشلزم۔ اس تناظر میں یہ بات عجیب نہیں کہ انسانی تاریخ کا آغاز حق و باطل کی کشمکش سے ہوا۔ سیدنا آدمؑ کے دو بیٹے تھے۔ ہابیل اور قابیل۔ ہابیل خدا پرست تھا اور قابل خود پرست تھا۔ ایک لڑکی سے شادی پر دونوں بھائیوں کے درمیان تنازع ہوا تو سیدنا آدمؑ نے ان سے کہا کہ تم خدا کو نذر پیش کرو۔ جس کی نذر خدا قبول کرے گا وہ لڑکی سے شادی کا حقدار ہوگا۔ دونوں بھائیوں نے نذر پیش کی۔ ہابیل کی نذر خدا نے قبول کرلی، قابل کی نذر قبول نہیں کی۔ مگر قابیل نے خدائی فیصلہ بھی قبول نہ کیا اور اس نے لڑکی سے خود شادی کرنے کے لیے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا۔ لیکن ہابیل ہار کر بھی جیت گیا اور قابیل جیت کر بھی ہار گیا۔
سقراط اپنے معاشرے کا سب سے بڑا حق پرست تھا۔ اس کی تعلیم یہ تھی کہ اصل چیز قوم یا قبیلہ نہیں اصل چیز صداقت ہے۔ یہ بات اس زمانے کی بالادست طبقات کو پسند نہ آئی۔ انہوں نے سقراط پر الزام لگایا کہ وہ نوجوانوں کو بغاوت پر آمادہ کررہا ہے چنانچہ اس جھوٹے الزام کے تحت سقراط کو موت کی سزا سنائی گئی۔ سقراط کا ایک شاگرد جیل میں اس سے ملنے آیا تو رونے لگا۔ سقراط نے پوچھا کیوں روتے ہو؟ شاگرد نے کہا آپ نے کوئی جرم نہیں کیا پھر بھی آپ کو زہر کا پیالہ پینا ہوگا۔ سقراط نے کہا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں جرم کرکے مارا جاتا؟ سقراط مرگیا مگر مر کر بھی امر ہوگیا۔ اسے زہر پلانے والوں کو دنیا جانتی بھی نہیں۔ دیکھا جائے تو سقراط بھی ایک نظریے کا علمبردار تھا اور اس کے مخالف بھی ایک نظریے کے ماننے والے تھے۔ سقراط حق پر تھا اور اس کے ماننے والے باطل پر کھڑے تھے۔
یہ توکل کی بات ہے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں ہر طرف مذہب کے خاتمے کا اعلان ہورہا تھا اور ہر جگہ مذہب دشمن نظریات کے پرچم لہرا رہے تھے۔ مغربی دنیا سیکولر ازم اور لبرل ازم کا پرچم تھامے کھڑی تھی۔ مغرب کا ایک ممتاز دانش ور جیمس فریزر اپنی مشہور زمانہ تصنیف ’’گولڈن بائو‘‘ میں کہہ رہا تھا کہ انسانی تاریخ چار زمانوں میں منقسم ہے۔ پہلا زمانہ جادو کا زمانہ تھا۔ دوسرا زمانہ مذہب کا زمانہ تھا۔ تیسرا زمانہ فلسفے کا زمانہ تھا جبکہ چوتھا دور جو عصر حاضر ہے سائنس کا زمانہ ہے۔ انسان اب ’’بالغ‘‘ ہوگیا ہے۔ دوسری طرف روس اور چین میں سوشلسٹ انقلاب برپا ہوچکے تھے اور دونوں انقلابات مذہب دشمن تھے۔ ٹھیک اسی زمانے میں اکبر الٰہ آبادی نے مذہب کی قوت کی بنیاد پر ایسی شاعری کی اقبال کو کہنا پڑا کہ پورے ایشیا میں اکبر جیسا کوئی شاعر نہیں۔ خود اقبال نے مذہبی ایقان کی بنیاد پر ایسی عظیم شاعری خلق کی جس کی عصری عالمی ادن میں کوئی مثال موجود نہیں۔ ٹھیک اسی زمانے میں محمد علی جناح کو ان کے مذہب میں ڈوبے ہوئے دو قومی نظریے نے محمد علی جناح سے ’’قائد اعظم‘‘ بنادیا اور قائداعظم نے 20 ویں صدی کے وسط میں اسلام کے نام پر پاکستان جیسی عظیم الشان ریاست تخلیق کرکے دکھا دی۔ پاکستان ایک ’’غیر نظریاتی عہد‘‘ میں ’’نظریاتی سیاست‘‘ کی سب سے بڑی مثال تھا اور ہے۔ اسلام کے نظریاتی شعور کی ذہانت کا یہ عالم ہے کہ مولانا مودودی نے 1950ء کی دہائی میں پیشگوئی کردی تھی کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ سوشلزم کو ماسکو میں پناہ نہیں ملے گی۔ یہی ہوا۔ 1917ء میں نمودار ہونے والا ’’انقلابی سوشلزم‘‘ 1991ء میں ایسا ڈوبا کہ سوویت یونین ہی ختم ہوگیا۔ اس تجربے کے برعکس الجزائر میں اسلام کا نظریاتی شعور اس طرح بیدار اور متحرک ہوا کہ الجزائر کے ’’اسلامی فرنٹ‘‘ نے انتخابات کے پہلے مرحلے میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلی۔ لیکن الجزائر کے سیکولر اور لبرل جرنیلوں سے اسلام کی یہ سیاسی اور نظریاتی پیش قدمی ہضم نہ ہوسکی۔ چنانچہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ انتخابات کے دوسرے مرحلے کی نوبت ہی نہ آنے دی بلکہ وہ اسلامی فرنٹ پر ٹوٹ پڑے۔ اسلامی فرنٹ نے بدمعاش سیکولر اور لبرل جرنیلوں کی مزاحمت کی۔ چنانچہ الجزائر میں خانہ جنگی شروع ہوگئی جو دس سال میں دس لاکھ لوگوں کو نگل گئی۔ جمہوریت مغرب کی ’’ایجاد‘‘ ہے مگر امریکا اور یورپ نے الجزائر کے جرنیلوں سے ایک بار بھی یہ نہ کہا کہ تم الجزائر میں ’’جمہوریت دشمنی‘‘ کا مظاہرہ کررہے ہو۔ اس سے باز رہو ورنہ مغرب تم پر سیاسی، معاشی اور سفارتی پابندیاں عائد کردے گا۔ ایسی ہی پابندیاں جیسی اس نے ایران پر لگائی ہوئی ہیں۔ جیسی اس نے روس پر لگائی ہوئی ہیں۔
سوویت یونین ٹوٹا تو پورا مشرقی یورپ بھی سوشلزم کے شکنجے سے آزاد ہوگیا اور یورپ میں بوسنیا کے نام سے ایک نئی مسلم ریاست اُبھر آئی۔ ’’نظریاتی عہد‘‘ ختم ہوگیا ہوتا تو درندے کبھی بوسنیا کے مسلمانوں پر جنگ مسلط نہ کرتے۔ مگر سربوں اور کروٹس کو یورپ میں مسلمانوں اور اسلام کی پیش قدمی درکار نہ تھی۔ چنانچہ 1991ء سے 1995ء تک وہ بوسنیا میں مسلمانوں کا قتل عام کرتے رہے۔ ترکی آئینی اعتبار سے سیکولر ملک ہے مگر چونکہ ’’نظریاتی عہد‘‘ کبھی ختم نہیں ہوا اس لیے 1996ء میں ترکی کے اندر اسلام پرست نجم الدین اربکان انتخابات میں کامیاب ہو کر ترکی کے وزیراعظم بن گئے۔ لیکن ترکی کی سیکولر فوج انہیں ہضم نہ کرسکی اور نجم الدین اربکان کو 1997ء میں اقتدار چھوڑنا پڑا۔ چونکہ مسلم دنیا میں ’’نظریاتی سیاست‘‘ زندہ ہے اس لیے حماس نے 2006ء میں ایک ’’سیاسی جماعت‘‘ کی شکل اختیار کرتے ہوئے فلسطین کے انتخابات میں حصہ لیا اور واضح اکثریت حاصل کی۔ مگر حماس کی ’’جمہوری کامیابی‘‘ کو نہ امریکا نے قبول کیا نہ یورپ نے اس کا خیر مقدم کیا، نہ سیکولر پی ایل او نے اسے ہضم کیا۔
مصر عرب دنیا کا سب سے بڑا اور اہم ملک ہے اور مصر پر ہمیشہ سیکولر اور لبرل عناصر غالب رہے ہیں۔ لیکن چونکہ مسلم دنیا میں ’’نظریاتی سیاست‘‘ ختم نہیں ہوئی ہے اس لیے 2012ء کے انتخابات میں اخوان المسلمون نے جناب مرسی کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیا اور صدر مرسی نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ مگر نہ مغرب نے صدر مرسی کی جمہوری کامیابی کو قبول کیا نہ یورپ نے صدر مرسی کا خیر مقدم کیا۔ اس کے برعکس امریکا اور یورپ نے مصر کے سیکولر جنرل سیسی کو ہشکارا اور مصر کی سیکولر فوج اخوان پر ٹوٹ پڑی اور صدر مرسی کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا۔
ترکی بھی ایک سیکولر ملک ہے مگر وہاں بھی 2014ء کے انتخابات میں ’’اسلام پسند‘‘ طیب اردوان اقتدار میں آگئے۔ ان کے خلاف بھی ترکی کی سیکولر فوج نے سازش کی مگر طیب اردوان کی اپیل پر لاکھوں ترک باشندے سڑکوں پر نکل آئے۔ وہ ٹینکوں کے آگے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے طیب اردوان کے خلاف ’’نظریاتی سازش‘‘ کو ناکام بنادیا۔
بھارت آئینی اعتبار سے سیکولر ملک ہے اور آبادی کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ نظریاتی سیاست ختم ہوگئی ہوتی تو نریندر مودی 2014ء سے 2026ء تک ہندوستان کے وزیراعظم رہ سکتے تھے نہ ہی بھارت میں بابری مسجد کی شہادت جیسا سانحہ رونما ہوسکتا تھا۔
امریکا دنیا کی سب سے مضبوط جمہوریت کہلاتا ہے اور وہ آئینی اعتبار سے ایک سیکولر ملک ہے لیکن امریکا پر ٹرمپ جیسا دائیں بازو اور عیسائیت کا نمائندہ حکومت کررہا ہے کیا یہ صورت حال نظریاتی سیاست کے خاتمے کی علامت ہے یا اس کی موجودگی کی؟
فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے ری پبلکن رکن اینڈی فائن نے چند روز پہلے ہی کہا ہے مسلمان کتوں جیسے بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں۔ اس لیے ہمیں اگر کتوں اور مسلمانوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو ہم کتوں کا انتخاب کریں گے۔ یہ صاحب مظلوم فلسطینیوں کو ’’شیطان‘‘ قرار دے چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو تباہ کردینا چاہیے۔ (روزنامہ ڈان، 17 فروری 2026ء)
سوال یہ ہے کہ یہ بیان نظریاتی ذہن کا عکاس ہے یا غیر نظریاتی ذہن کا۔
وجاہت مسعود کا اصرار ہے کہ بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کو بدترین شکست ہوگئی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے انتخابات میں 68 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور اس نے 7 کروڑ 60 لاکھ ووٹوں میں سے 3 کروڑ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نشستوں اور ووٹوں کی اتنی بڑی تعداد بھی جماعت اسلامی کی شکست ہے تو پھر کامیابی کس چڑیا کا نام ہے؟ بنگلا دیش کی جماعت اسلامی کے بارے میں وجاہت مسعود کے اس تبصرے کو دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ سیکولر اور لبرل لوگوں کا دل ہی نہیں دماغ بھی چھوٹا ہوتا ہے۔
وجاہت مسعود کی ’’دل شکنی‘‘ کے لیے عرض ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ میرا زمانہ رہے گا جب تک اللہ کو منظور ہوگا۔ اس کے بعد خلافت راشدہ ہوگی اور اس کا عہد رہے گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ چاہیں گے۔ اس کے بعد ملوکیت ہوگی اور اس کا دور رہے گا جب تک اللہ کی مرضی ہوگی۔ اس کے بعد کاٹ کھانے والی آمریت ہوگی اور اس کا غلبہ رہے گا جب تک اللہ کی مشیت ہوگی لیکن اس کے بعد دنیا ایک بار پھر خلافت علیٰ منہاج النبوہ کے تجربے کی جانب لوٹے گی۔ عرض ہے کہ مسلمان اب اس زمانے سے بہت دور نہیں کھڑے ہیں۔ مطلب یہ کہ مسلم دنیا میں نظریاتی سیاست زیادہ گہری اور زیادہ خوبصورت ہونے والی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیکولر اور لبرل کے انتخابات میں نظریاتی سیاست جماعت اسلامی رہے گا جب تک وجاہت مسعود ختم ہوگیا بنگلا دیش اس کے بعد انہوں نے کا زمانہ تھا اور یورپ نے حاصل کی کہ مسلم اس لیے ہے اور اور اس
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔