Jasarat News:
2026-06-02@23:27:35 GMT

کیا نظریاتی سیاست کا عہد ختم ہوگیا؟

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان میں جماعت اسلامی سے نفرت کرنے والوں کی کمی نہیں۔ لیکن جماعت اسلامی سے نفرت کا سبب خود جماعت اسلامی نہیں بلکہ اس کا نظریہ یعنی اسلام ہے۔ چنانچہ سیکولر، لبرل اور سوشلسٹ عناصر چاہتے ہیں کہ پاکستان کیا بنگلا دیش سے بھی جماعت اسلامی کا خاتمہ ہوجائے۔ تا کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ وجاہت مسعود پاکستان کے معروف سیکولر دانش ور ہیں۔ ان کا بس چلے تو وہ جماعت اسلامی کیا اسلام ہی کا خاتمہ کردیں۔ ان کی جماعت اسلامی سے نفرت کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے اپنے ایک حالیہ کالم میں لکھا ہے کہ جماعت اسلامی کو بنگلا دیش کے انتخابات میں بدترین شکست ہوئی ہے اور ایسا اس لیے ہوا کہ دنیا سے نظریاتی سیاست کا عہد ختم ہوگیا ہے اور دنیا نظریاتی سیاست سے بہت آگے نکل گئی ہے۔ (روزنامہ جنگ، 11 فروری 2026ء)

انسانیت کی پوری تاریخ نظریات کی تاریخ ہے اور بنیادی نظریے صرف دو ہیں۔ حق اور باطل۔ حق وہ ہے جو خدا نے انبیا و مرسلین کے توسط سے مذہب کی صورت میں انسانوں تک پہنچایا اور باطل وہ ہے جو ہدایت ِ ربّانی کی ضد ہے۔ خواہ وہ انسان کی انا ہو، اس کی خود پرستی ہو، بادشاہت ہو، نسل پرستی یا قوم پرستی ہو یا سیکولر ازم، لبرل ازم اور سوشلزم۔ اس تناظر میں یہ بات عجیب نہیں کہ انسانی تاریخ کا آغاز حق و باطل کی کشمکش سے ہوا۔ سیدنا آدمؑ کے دو بیٹے تھے۔ ہابیل اور قابیل۔ ہابیل خدا پرست تھا اور قابل خود پرست تھا۔ ایک لڑکی سے شادی پر دونوں بھائیوں کے درمیان تنازع ہوا تو سیدنا آدمؑ نے ان سے کہا کہ تم خدا کو نذر پیش کرو۔ جس کی نذر خدا قبول کرے گا وہ لڑکی سے شادی کا حقدار ہوگا۔ دونوں بھائیوں نے نذر پیش کی۔ ہابیل کی نذر خدا نے قبول کرلی، قابل کی نذر قبول نہیں کی۔ مگر قابیل نے خدائی فیصلہ بھی قبول نہ کیا اور اس نے لڑکی سے خود شادی کرنے کے لیے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا۔ لیکن ہابیل ہار کر بھی جیت گیا اور قابیل جیت کر بھی ہار گیا۔

سقراط اپنے معاشرے کا سب سے بڑا حق پرست تھا۔ اس کی تعلیم یہ تھی کہ اصل چیز قوم یا قبیلہ نہیں اصل چیز صداقت ہے۔ یہ بات اس زمانے کی بالادست طبقات کو پسند نہ آئی۔ انہوں نے سقراط پر الزام لگایا کہ وہ نوجوانوں کو بغاوت پر آمادہ کررہا ہے چنانچہ اس جھوٹے الزام کے تحت سقراط کو موت کی سزا سنائی گئی۔ سقراط کا ایک شاگرد جیل میں اس سے ملنے آیا تو رونے لگا۔ سقراط نے پوچھا کیوں روتے ہو؟ شاگرد نے کہا آپ نے کوئی جرم نہیں کیا پھر بھی آپ کو زہر کا پیالہ پینا ہوگا۔ سقراط نے کہا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں جرم کرکے مارا جاتا؟ سقراط مرگیا مگر مر کر بھی امر ہوگیا۔ اسے زہر پلانے والوں کو دنیا جانتی بھی نہیں۔ دیکھا جائے تو سقراط بھی ایک نظریے کا علمبردار تھا اور اس کے مخالف بھی ایک نظریے کے ماننے والے تھے۔ سقراط حق پر تھا اور اس کے ماننے والے باطل پر کھڑے تھے۔

یہ توکل کی بات ہے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں ہر طرف مذہب کے خاتمے کا اعلان ہورہا تھا اور ہر جگہ مذہب دشمن نظریات کے پرچم لہرا رہے تھے۔ مغربی دنیا سیکولر ازم اور لبرل ازم کا پرچم تھامے کھڑی تھی۔ مغرب کا ایک ممتاز دانش ور جیمس فریزر اپنی مشہور زمانہ تصنیف ’’گولڈن بائو‘‘ میں کہہ رہا تھا کہ انسانی تاریخ چار زمانوں میں منقسم ہے۔ پہلا زمانہ جادو کا زمانہ تھا۔ دوسرا زمانہ مذہب کا زمانہ تھا۔ تیسرا زمانہ فلسفے کا زمانہ تھا جبکہ چوتھا دور جو عصر حاضر ہے سائنس کا زمانہ ہے۔ انسان اب ’’بالغ‘‘ ہوگیا ہے۔ دوسری طرف روس اور چین میں سوشلسٹ انقلاب برپا ہوچکے تھے اور دونوں انقلابات مذہب دشمن تھے۔ ٹھیک اسی زمانے میں اکبر الٰہ آبادی نے مذہب کی قوت کی بنیاد پر ایسی شاعری کی اقبال کو کہنا پڑا کہ پورے ایشیا میں اکبر جیسا کوئی شاعر نہیں۔ خود اقبال نے مذہبی ایقان کی بنیاد پر ایسی عظیم شاعری خلق کی جس کی عصری عالمی ادن میں کوئی مثال موجود نہیں۔ ٹھیک اسی زمانے میں محمد علی جناح کو ان کے مذہب میں ڈوبے ہوئے دو قومی نظریے نے محمد علی جناح سے ’’قائد اعظم‘‘ بنادیا اور قائداعظم نے 20 ویں صدی کے وسط میں اسلام کے نام پر پاکستان جیسی عظیم الشان ریاست تخلیق کرکے دکھا دی۔ پاکستان ایک ’’غیر نظریاتی عہد‘‘ میں ’’نظریاتی سیاست‘‘ کی سب سے بڑی مثال تھا اور ہے۔ اسلام کے نظریاتی شعور کی ذہانت کا یہ عالم ہے کہ مولانا مودودی نے 1950ء کی دہائی میں پیشگوئی کردی تھی کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ سوشلزم کو ماسکو میں پناہ نہیں ملے گی۔ یہی ہوا۔ 1917ء میں نمودار ہونے والا ’’انقلابی سوشلزم‘‘ 1991ء میں ایسا ڈوبا کہ سوویت یونین ہی ختم ہوگیا۔ اس تجربے کے برعکس الجزائر میں اسلام کا نظریاتی شعور اس طرح بیدار اور متحرک ہوا کہ الجزائر کے ’’اسلامی فرنٹ‘‘ نے انتخابات کے پہلے مرحلے میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلی۔ لیکن الجزائر کے سیکولر اور لبرل جرنیلوں سے اسلام کی یہ سیاسی اور نظریاتی پیش قدمی ہضم نہ ہوسکی۔ چنانچہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ انتخابات کے دوسرے مرحلے کی نوبت ہی نہ آنے دی بلکہ وہ اسلامی فرنٹ پر ٹوٹ پڑے۔ اسلامی فرنٹ نے بدمعاش سیکولر اور لبرل جرنیلوں کی مزاحمت کی۔ چنانچہ الجزائر میں خانہ جنگی شروع ہوگئی جو دس سال میں دس لاکھ لوگوں کو نگل گئی۔ جمہوریت مغرب کی ’’ایجاد‘‘ ہے مگر امریکا اور یورپ نے الجزائر کے جرنیلوں سے ایک بار بھی یہ نہ کہا کہ تم الجزائر میں ’’جمہوریت دشمنی‘‘ کا مظاہرہ کررہے ہو۔ اس سے باز رہو ورنہ مغرب تم پر سیاسی، معاشی اور سفارتی پابندیاں عائد کردے گا۔ ایسی ہی پابندیاں جیسی اس نے ایران پر لگائی ہوئی ہیں۔ جیسی اس نے روس پر لگائی ہوئی ہیں۔

سوویت یونین ٹوٹا تو پورا مشرقی یورپ بھی سوشلزم کے شکنجے سے آزاد ہوگیا اور یورپ میں بوسنیا کے نام سے ایک نئی مسلم ریاست اُبھر آئی۔ ’’نظریاتی عہد‘‘ ختم ہوگیا ہوتا تو درندے کبھی بوسنیا کے مسلمانوں پر جنگ مسلط نہ کرتے۔ مگر سربوں اور کروٹس کو یورپ میں مسلمانوں اور اسلام کی پیش قدمی درکار نہ تھی۔ چنانچہ 1991ء سے 1995ء تک وہ بوسنیا میں مسلمانوں کا قتل عام کرتے رہے۔ ترکی آئینی اعتبار سے سیکولر ملک ہے مگر چونکہ ’’نظریاتی عہد‘‘ کبھی ختم نہیں ہوا اس لیے 1996ء میں ترکی کے اندر اسلام پرست نجم الدین اربکان انتخابات میں کامیاب ہو کر ترکی کے وزیراعظم بن گئے۔ لیکن ترکی کی سیکولر فوج انہیں ہضم نہ کرسکی اور نجم الدین اربکان کو 1997ء میں اقتدار چھوڑنا پڑا۔ چونکہ مسلم دنیا میں ’’نظریاتی سیاست‘‘ زندہ ہے اس لیے حماس نے 2006ء میں ایک ’’سیاسی جماعت‘‘ کی شکل اختیار کرتے ہوئے فلسطین کے انتخابات میں حصہ لیا اور واضح اکثریت حاصل کی۔ مگر حماس کی ’’جمہوری کامیابی‘‘ کو نہ امریکا نے قبول کیا نہ یورپ نے اس کا خیر مقدم کیا، نہ سیکولر پی ایل او نے اسے ہضم کیا۔

مصر عرب دنیا کا سب سے بڑا اور اہم ملک ہے اور مصر پر ہمیشہ سیکولر اور لبرل عناصر غالب رہے ہیں۔ لیکن چونکہ مسلم دنیا میں ’’نظریاتی سیاست‘‘ ختم نہیں ہوئی ہے اس لیے 2012ء کے انتخابات میں اخوان المسلمون نے جناب مرسی کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیا اور صدر مرسی نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ مگر نہ مغرب نے صدر مرسی کی جمہوری کامیابی کو قبول کیا نہ یورپ نے صدر مرسی کا خیر مقدم کیا۔ اس کے برعکس امریکا اور یورپ نے مصر کے سیکولر جنرل سیسی کو ہشکارا اور مصر کی سیکولر فوج اخوان پر ٹوٹ پڑی اور صدر مرسی کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا۔

ترکی بھی ایک سیکولر ملک ہے مگر وہاں بھی 2014ء کے انتخابات میں ’’اسلام پسند‘‘ طیب اردوان اقتدار میں آگئے۔ ان کے خلاف بھی ترکی کی سیکولر فوج نے سازش کی مگر طیب اردوان کی اپیل پر لاکھوں ترک باشندے سڑکوں پر نکل آئے۔ وہ ٹینکوں کے آگے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے طیب اردوان کے خلاف ’’نظریاتی سازش‘‘ کو ناکام بنادیا۔

بھارت آئینی اعتبار سے سیکولر ملک ہے اور آبادی کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ نظریاتی سیاست ختم ہوگئی ہوتی تو نریندر مودی 2014ء سے 2026ء تک ہندوستان کے وزیراعظم رہ سکتے تھے نہ ہی بھارت میں بابری مسجد کی شہادت جیسا سانحہ رونما ہوسکتا تھا۔

امریکا دنیا کی سب سے مضبوط جمہوریت کہلاتا ہے اور وہ آئینی اعتبار سے ایک سیکولر ملک ہے لیکن امریکا پر ٹرمپ جیسا دائیں بازو اور عیسائیت کا نمائندہ حکومت کررہا ہے کیا یہ صورت حال نظریاتی سیاست کے خاتمے کی علامت ہے یا اس کی موجودگی کی؟

فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے ری پبلکن رکن اینڈی فائن نے چند روز پہلے ہی کہا ہے مسلمان کتوں جیسے بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں۔ اس لیے ہمیں اگر کتوں اور مسلمانوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو ہم کتوں کا انتخاب کریں گے۔ یہ صاحب مظلوم فلسطینیوں کو ’’شیطان‘‘ قرار دے چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو تباہ کردینا چاہیے۔ (روزنامہ ڈان، 17 فروری 2026ء)

سوال یہ ہے کہ یہ بیان نظریاتی ذہن کا عکاس ہے یا غیر نظریاتی ذہن کا۔

وجاہت مسعود کا اصرار ہے کہ بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کو بدترین شکست ہوگئی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے انتخابات میں 68 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور اس نے 7 کروڑ 60 لاکھ ووٹوں میں سے 3 کروڑ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نشستوں اور ووٹوں کی اتنی بڑی تعداد بھی جماعت اسلامی کی شکست ہے تو پھر کامیابی کس چڑیا کا نام ہے؟ بنگلا دیش کی جماعت اسلامی کے بارے میں وجاہت مسعود کے اس تبصرے کو دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ سیکولر اور لبرل لوگوں کا دل ہی نہیں دماغ بھی چھوٹا ہوتا ہے۔

وجاہت مسعود کی ’’دل شکنی‘‘ کے لیے عرض ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ میرا زمانہ رہے گا جب تک اللہ کو منظور ہوگا۔ اس کے بعد خلافت راشدہ ہوگی اور اس کا عہد رہے گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ چاہیں گے۔ اس کے بعد ملوکیت ہوگی اور اس کا دور رہے گا جب تک اللہ کی مرضی ہوگی۔ اس کے بعد کاٹ کھانے والی آمریت ہوگی اور اس کا غلبہ رہے گا جب تک اللہ کی مشیت ہوگی لیکن اس کے بعد دنیا ایک بار پھر خلافت علیٰ منہاج النبوہ کے تجربے کی جانب لوٹے گی۔ عرض ہے کہ مسلمان اب اس زمانے سے بہت دور نہیں کھڑے ہیں۔ مطلب یہ کہ مسلم دنیا میں نظریاتی سیاست زیادہ گہری اور زیادہ خوبصورت ہونے والی ہے۔

شاہنواز فاروقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیکولر اور لبرل کے انتخابات میں نظریاتی سیاست جماعت اسلامی رہے گا جب تک وجاہت مسعود ختم ہوگیا بنگلا دیش اس کے بعد انہوں نے کا زمانہ تھا اور یورپ نے حاصل کی کہ مسلم اس لیے ہے اور اور اس

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر