اب دہشتگردوں کیخلاف بلارعایت کارروائیاں کریں گے: آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
ویب ڈیسک:پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اب دہشتگردوں کے خلاف ان کی موجودگی کے مقام سے قطع نظر بلارعایت کارروائیاں کریں گے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق طالبان حکومت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال سے روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اب دہشتگردوں کیخلاف انکی موجودگی کے مقام سے قطع نظر بلارعایت کارروائیاں کرے گا۔
اسٹرابری کی مانگ بڑھنے سے قیمتوں کو بھی پرلگ گئے
گزشتہ روز بنوں میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے کے تانے بانے بھی افغانستان کے گل بہادر گروپ سے ملے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے بنوں بڑے سانحے سے بچ گیا، دہشت گردوں کے بنوں شہر میں معصوم شہریوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے گئے۔
شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ فورسز نے آپریشن کے دوران خوارج کا سراغ لگایا، گاڑی میں سوار خودکش حملہ آور کو اگلے دستے نے بروقت روک لیا، خوارج نے مایوسی میں بارود سے بھری گاڑی اگلے دستے کی ایک گاڑی سے ٹکرائی، حملے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گلفرازاور سپاہی کرامت شاہ شہید ہوگئے جبکہ سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 5 خوارج مارے گئے۔
رمضان احساس پروگرام: 12500 حاصل کرنے کا طریقہ جانیے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ایس پی
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔