محراب پور: پرانی دشمنی کا شاخسانہ، مسلح افراد کا گائوں پر حملہ ، پولیس اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260222-4-11
محراب پور(جسارت نیوز)دشمنی کا شاخسانہ، مسلح افراد کا گاؤں پر حملہ، فائرنگ میں پولیس کانسٹیبل سمیت6 افراد زخمی، ایس ایس پی نوشہرو فیروز سمیت بھاری پولیس نفری موقع پر پہنچ گئی ، واقعہ کورائی پولیس تھانہ کی حدود گاؤں سنہری میں پیش آیا جہاں پر مسلح افراد نے گاؤں میں داخل ہوکر اندھا دھند فائرنگ کی جس کی زد میں پولیس کانسٹیبل علی بخش سیٹھار اور 5 مقامی افراد شریف نونڈر، معشوق نونڈر، زوہب نونڈر، ریاض نونڈر اور گلن نونڈر زخمی ہوگئے جنہیں مورو اور نواب شاہ کے اسپتال منتقل کر دیا جبکہ پولیس کانسٹیبل کونواب شاہ اسپتال سے حالت نازک ہونے پر کراچی منتقل کر دیا ہے، واقعے کے کی اطلاع ملنے پر ایس ایس پی نوشہرو فیروز میر روحل کھوسو بھاری پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کا گھیراؤ کرلیاہے،زخمی شریف نونڈر کے مطابق سال 2004 میں ان کا چانڈیو برادری سے جھگڑا ہوا تھا جس کا فیصلہ بھی ہوگیا تھا اب 22 سال بعد سکندر نونڈر جیل سے رہا ہوکر گاؤں پہنچا تو بدلے کیلئے چانڈیو برادری کے لوگوں نے حملہ کیا ہے ہم پولیس سے تحفظ اور حملہ آور کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔