بڈگام میں سمارٹ میٹرز کی تنصیب کے خلاف خواتین کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
ذرائع کے مطابق احتجاجی خواتین نے بتایا کہ نئے نظام سے بجلی کے ماہانہ اخراجات بڑھ جائیں گے جس سے کم آمدنی والے گھرانے بری طرح متاثر ہوں گے۔ خواتین نے سمارٹ میٹرز کی تنصیب کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ضلع بڈگام کے علاقے وترہ ونی میں خواتین نے بجلی کے سمارٹ میٹرز کی تنصیب کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ ذرائع کے مطابق احتجاجی خواتین نے بتایا کہ نئے نظام سے بجلی کے ماہانہ اخراجات بڑھ جائیں گے جس سے کم آمدنی والے گھرانے بری طرح متاثر ہوں گے۔ خواتین نے سمارٹ میٹرز کی تنصیب کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سمارٹ میٹرز کے آپریشنل طریقہ کار اور بلنگ کے حوالے سے پیشگی آگاہی مہم کی عدم موجودگی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے محکمہ بجلی پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھنے سے پہلے عوامی سطح پر خدشات کا ازالہ کرے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یوٹیلیٹی سروسز میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے موقع پر مقامی معاشی حالات کا عنصر بھی دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ اس پر نظرثانی کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے خدشات دور نہ کئے گئے تو احتجاج میں شدت لائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سمارٹ میٹرز کی تنصیب خواتین نے انہوں نے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔