مقبوضہ کشمیر، پی ڈی پی کا رمضان کے مقدس مہینے میں شراب کی دکانیں بند کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
زہیب یوسف میر نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخی اور مذہبی اہمیت کے حامل مقامات پر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتظامی اقدامات کیے جاتے ہیں کہ اکثریتی برادری بغیر کسی تکلیف کے اپنے عقیدے پر عمل کر سکے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے رمضان کے مقدس مہینے کے دوران شراب کی دکانیں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائٰع کے مطابق پی ڈی پی کے رہنما زہیب یوسف میر نے ایک بیان میں کہا کہ اگر کاشی اور متھورا جیسے شہروں میں نوراتری کے موقع پر اکثریت کے جذبات کا احترام کرنے کے لیے گوشت کی دکانیں بند کی جا سکتی ہیں، تو مذہبی حساسیت کے اسی اصول کو مسلم اکثریتی خطے جموں و کشمیر میں کیوں نہیں اپنایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخی اور مذہبی اہمیت کے حامل مقامات پر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتظامی اقدامات کیے جاتے ہیں کہ اکثریتی برادری بغیر کسی تکلیف کے اپنے عقیدے پر عمل کر سکے۔ کیا ہم جموں و کشمیر میں یکساں بنیادی احترام کا مطالبہ نہیں کر سکتے؟ پی ڈی پی لیڈر نے انتظامیہ سے رمضان کے دوران سرکاری ملازمین کے کام کے اوقات کو معقول بنانے پر بھی زور دیا جس طرح بھارتی ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں پہلے سے نافذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک منتخب حکومت ایسے اقدامات نہ صرف کر سکتی ہے بلکہ ایک سازگار ماحول کو فروغ دینے کے لیے یہ اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔زہیب میر نے کہا کہ ان چھوٹی لیکن اہم تبدیلیوں کو نافذ کر کے ہم جموں و کشمیر میں شمولیت اور مساوات کی ایک مثال قائم کر سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ ہیں کہ کے لیے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔