برطانوی حکومت، اینڈریو کو جانشینی سے ہٹانے کیلیے قانون سازی پر غور
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی حکومت کا کہنا ہے اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو شاہی جانشینی سے ہٹانے کے لیے قانون سازی پر غور کیا جا رہا ہے۔برطانوی وزیر دفاع لیوک پولارڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی تحقیقات کے نتائج سے قطع نظر یہ اقدام اٹھانا ’صحیح عمل‘ ہو گا۔اگر حکومت قانون سازی کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اینڈریو کے بادشاہ بننے کا امکان ختم ہو جائے گا۔بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات رکھنے پر اینڈریو سے شہزادے کا خطاب اور دیگر مراعات واپس لے لی گئی تھیں۔اینڈریو بادشاہ چارلس کے بھائی ہیں۔ ’شہزادہ‘ کے خطاب سے محروم ہونے کے باوجود وہ جانشینی کے سلسلے میں آٹھویں نمبر پر ہیں۔جمعرات کی شام اینڈریو کو عوامی عہدے میں بدعنوانی کے شبے میں گرفتاری کیا گیا تھا۔ انھیں تقریباً 11 گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا تھا تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اْن کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ جاری رہے گا۔اینڈریو مسلسل اور سختی سے کسی بھی غلط کام میں ملوث ہونے ہونے سے انکار کرتے رہے ہیں۔بی بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے پولارڈ نے تصدیق کی کہ حکومت سابق شہزادے کو ممکنہ طور پر تخت سے دور رکھنے کے منصوبوں پر بکنگھم پیلس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔پولارڈ کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ اس اقدام کی تمام پارٹیاں حمایت کریں گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جو تب ہی ممکن ہے جب پولیس کی تفتیش مکمل ہو جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا کہنا
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔