نئے صوبے کا مطالبہ آئینی و جمہوری حق ہے ‘ محمد فاروق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق نے ہفتہ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کی حمایت کی تاہم انہوں نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کے لیے آئین میں طریقہ کار موجود ہے جس کے تحت کوئی نیا صوبہ بن سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ ہو یا پاکستان کا کوئی بھی صوبہ اس کے منتخب لوگ آئین پاکستان کے تحت اگر نئے صوبے کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ ان کا آئینی و جمہوری حق ہے۔ آئین کے اندر جو کچھ موجود ہے اس پر من و عن عملدرآمد ہونا چاہیے۔ محمد فاروق نے کہا کہ کراچی کو پانی ، گیس اور انفرااسٹر کچر نہیں مل رہا، کراچی کے لوگوں کو نوکریاں نہیں مل رہیں، اس میں برابر کا حصہ ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے کو اختیارات ملے لیکن آپ نے کراچی جو اس صوبے کا دارالخلافہ ہے اور وہ بیٹا ہے جو کما کر دیتا ہے اس کا جائزحق نہیں دیا ۔محمد فاروق نے مزید کہا کہ اس صوبے کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں، سندھ صوبہ تاریخی حیثیت کا حامل ہے، سندھ باب الاسلام ہے یہ صوفیوں کی دھرتی اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کی سرزمین ہے اس کے ساتھ بہت زیادتی کی گئی ہے۔ محمد فاروق نے مزید کہا کہ جن کے پاس اختیارات ہیں انہوں نے بھی کراچی کو کچھ نہیں دیا۔ کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں بھی ترقی ہونی چاہیے کراچی کو اس کا جائز حق ملنا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمد فاروق نے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔