تھائی لینڈ:وائرس اور بیکٹیریا کا حملہ‘72 ٹائیگر ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260222-06-5
بنکاک (انٹرنیشنل ڈیسک) تھائی لینڈ کے سیاحتی صوبے چیانگ مائی میں واقع نجی وائلڈ لائف پارک ’ٹائیگر کنگڈم‘ میں پراسرار وبائی صورتحال کے نتیجے میں چند ہی ہفتوں کے دوران 72 ٹائیگر ہلاک ہو گئے ۔اس اچانک اور بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں نے جنگلی حیات کے ماہرین اور انتظامیہ کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مقامی حکام کی جانب سے جاری کردہ ٹیسٹ رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والے ٹائیگروں میں کینائن ڈسٹیمپر نامی مہلک وائرس اور سانس کے نظام کو بری طرح متاثر کرنے والے خطرناک بیکٹیریا کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ وائرس عام طور پر جانوروں کے اعصابی اور تنفسی نظام پر حملہ کرتا ہے جو اکثر جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ قومی محکمہ لائیو اسٹاک کے ڈائریکٹر نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ٹائیگروں میں اس بیماری کی علامات کو ابتدائی مرحلے میں پہچاننا انتہائی مشکل کام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک بیماری کی شدت اور صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوا، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور وائرس تیزی سے پھیل چکا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔