میٹا کمپنی بچوں کو آن لائن شکاریوں سے محفوظ رکھنے میں ناکام
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260222-06-15
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ریاست نیو میکسیکو نے میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کر کے قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا۔ ریاست کے محکمہ انصاف نے مو قف اختیار کیا کہ میٹا نے فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک بازار بنا دیا ہے، جہاں شکاری بچوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ محکمہ انصاف کے مطابق خفیہ تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ میٹا کمپنی بچوں کو آن لائن شکاریوں سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ میٹا کمپنی سے کہا گیا کہ وہ اپنی ویب سائٹس پر بچوں اور نوجوانوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرے۔ رپورٹ کے مطابق مقدمے میں میٹا اور ایپل کو بچوں کی حفاظت اور رازداری کے بارے میں سنگین سوالات کا سامنا ہے اور ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کا بچوں کی حفاظت سے متعلق ریکارڈ اس وقت سخت جانچ پڑتال کے دائرے میں ہے۔رواں ہفتے نیو میکسیکو، کیلیفورنیا اور ویسٹ ورجینیا میں جاری قانونی کارروائیوں کے دوران میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ اور ایپل کے سی ای او ٹم کوک کو رازداری، اظہارِ رائے کی آزادی اور حفاظت جیسے معاملات پر سوالات کا سامنا رہا، حالاں کہ یہ وہ مسائل ہیں جنھیں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں ہر نئی فیچر ریلیز کے وقت مدنظر رکھتی ہیں۔اگر ان کمپنیوں کو اپنے اپنے مقدمات میں ذمہ دار قرار دے دیا گیا تو عدالتیں اربوں صارفین کو متاثر کرنے والی مصنوعات میں غیر معمولی تبدیلیوں کا حکم دے سکتی ہیں۔ لاس اینجلس کی ایک عدالت میں زکربرگ نے اپنے فیصلوں کا دفاع کیا، جہاں وکلا نے ان پر دباؤ ڈالا کہ انہوں نے انسٹاگرام پر بیوٹی فلٹرز کی اجازت کیوں دی اور کمپنی کے کاروبار کو بڑھانے کی کوششوں نے نوجوانوں کی ذہنی صحت کے خدشات کو پسِ پشت ڈالا۔ نیو میکسیکو میں جاری مقدمے کے دوران سامنے آنے والے اندرونی میسجز سے پتا چلتا ہے کہ میٹا کے ملازمین ہر سال تقریباً 75 لاکھ بچوں کے استحصال سے متعلق رپورٹس پر بات کر رہے تھے۔ انہیں تشویش تھی کہ 2019 ء میں مارک زکربرگ کے اس فیصلے کے بعد، جس کے تحت فیس بک میسنجر میں ڈیفالٹ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن نافذ کی گئی، یہ رپورٹس ظاہر نہیں ہو سکیں گی۔یہ تفصیلات اس قانونی دستاویز سے سامنے آئیں جو نیو میکسیکو ریاست نے عدالت میں جمع کرائی اور جسے حال ہی میں عام کر دیا گیا ہے۔ 14 دسمبر 2023 ء کے ایک پیغام میں ایک ملازم نے لکھا کہ اگلے سال کمیونٹی اسٹینڈرڈز انفورسمنٹ رپورٹ کے اعداد و شمار ختم ہو جائیں گے۔ اسی مہینے میٹا نے اپنے بلاگ میں اعلان کیا تھا کہ وہ میسنجر اور فیس بک پر ذاتی پیغامات اور کالز کے لیے ڈیفالٹ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن نافذ کر رہا ہے۔دستاویز کے مطابق اسی ملازم نے یہ بھی کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے کمپنی نے مسائل کو چھپانے کے لیے ان پر پردہ ڈال دیا ہو، اور اب بچوں کے استحصال سے متعلق کم رپورٹس بھیجی جا رہی ہیں۔ ملازم نے کہا گویا کمپنی نے پتھروں کو ڈھانپنے کے لیے بڑا قالین بچھا دیا ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیو میکسیکو کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔