تیونس: صدر قیس سعید پر تنقید‘ رکن پارلیمان کو 8ماہ قید
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تیونس سٹی (انٹرنیشنل ڈیسک) تیونس کے صدر قیس سعید پر تنقید کرنے پر ایک رکن پارلیمان کو 8ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ انہیں رواں ماہ سوشل میڈیا پر صدر کے خلاف ایک پوسٹ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ پوسٹ صدر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے سے متعلق تھی۔ صدر قیس سعید کے اس سیلاب متاثرہ علاقے کے دورے پر ان دنوں کافی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی ہیں۔ پارلیمان کے رکن صدر قیس سعید کو سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں سپریم کمانڈر آف سینیٹیشن اینڈ اسٹارم واٹر ڈرینج کا لقب دیا تھا۔ سعیدانی کے وکیل کے مطابق ان کے مؤکل کو عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس پوسٹ کی بنیاد پر مؤکل کے خلاف ٹیلی کمیونیکیشن قانون کے تحت مقدمہ بنایا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت سوشل میڈیا پر کسی کو نقصان پہنچانے کی پوسٹ کرنا جرم ہے اور اس جرم کی سزا میں 2سال تک قید ہو سکتی ہے۔ انسانی حقوق گروپ نے کہا ہے کہ صدر قیس سعید 2021 ء سے صدر بننے کے بعد لوگوں کی آزادی کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔ اب تک درجنوں تنقید کرنے والے شہریوں کو جیل بھیجا جا چکا ہے اور کئی شہریوں پر جعلی خبروں کے مبینہ جرم میں فوجداری قانون کے تحت بھی مقدمات بنائے گئے ہیں۔ 8 ماہ کی سزائے قید پانے والے رکن پارلیمان احمد سعیدانی ماضی میں صدر قیس سعید کے حامی رہے ہیں اور ان کے اقتدار میں آنے کی بھی حمایت کر چکے ہیں۔ تاہم اب وہ صدر پر تنقید کرنے والوں میں شامل ہو کر جیل چلے گئے ہیں۔ یاد رہے گزشتہ ماہ تیونس میں شدید بارشوں کی وجہ سے سیلاب نے کئی علاقوں کو متاثر کیا ہے اور 70 سال کے عرصے میں یہ بدترین سیلاب قرار دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں کئی لوگ لاپتا ہوگئے ہیں جن کا ابھی تک سراغ نہیں لگایا گیا جبکہ کم از کم 5 لوگوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ