Jasarat News:
2026-06-02@22:38:21 GMT

پاکستان اسٹا ک مارکیٹ میں مندی کیوں ؟

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT

پاکستان اسٹا ک مارکیٹ میں مندی کیوں ؟

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان اسٹا ک مارکیٹ میں گزرے ہفتے کے دوران شدید مندی کا رجحان رہا
اس مندی کی بنیادی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ خطے میں ہونے والی خراب صورت حال اور جنگی حالات کی وجہ سے علاقے کی دیگر منڈیوں کی طرح پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی مندی سے دوچار ہے۔ لیکن اس کے علاوہ ملک کی خراب صورت حال بھی اس مندی کی بنیادی وجہ ہے۔ ملک میں ایک طرف تو حکومت یہ بھی کہہ رہی ہے کہ ملک کے معاشی حالات درست ہورہے ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری اور دیگر امور پاکستان کی معاشی صورت حال کو بہتر بنا رہے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت کے دباؤ نے مارکیٹ کو تنزلی کی جانب دھکیل دیا ہفتہ رفتہ کے دوران پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے بادل چھائے رہے ،مارکیٹ میں 6نفسیاتی حدیں گر گئیں اورانڈیکس 6400پوائنٹس گھٹ گیا جس کی وجہ سے انڈیکس179,600کی سطح سے گھٹ کر173,100کی کم ترین سطح پر آگیا۔مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے 756ارب روپے ڈوب گئے جبکہ 58.

81فیصد حصص کی قیمتیں بھی گھٹ گئیں۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ہفتہ بھر میں3دن مندی رہی اس دوران انڈیکس 13136پوائنٹس لوز کر گیا تاہم 2دن کی تیزی سے انڈٰکس نے 6701پوائنٹس ریکور تو کئے مگر مارکیٹ منفی رجحان سے نہ نکل سکی۔ماہرین کے مطابق شیئر بازار کی مندی نے عام سرمایہ کار کو بھی متاثر کیا اور مارکیٹ کی گراوٹ نے سرمایہ کاری کرنے والوں کو سوچنے پر مجبور کر دیاتاہم عالمی حالات اور معاشی اشاریے آئندہ ہفتے مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ہفتہ رفتہ کے دوران کے ایس ای 100انڈیکس میں 6434پوائنٹس کی کمی ہوئی اور انڈیکس179,603پوائنٹس سے گھٹ کر 173,169پوائنٹس پر بند ہوا اسی طرح 1786پوائنٹس کی کمی سے کے ایس ای 30انڈیکس53,042پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس108,021پوائنٹس سے کم ہو کر103,952پوائنٹس پر آگیا۔ ہفتہ بھر کے دوران مارکیٹ کے سرمائے میں 756 ارب 81 کروڑ 25 لاکھ 35 ہزار 770 روپے کی کمی واقع ہوئی اور سرمائے کا مجموعی حجم 19602ارب74کروڑ40لاکھ93ہزار811روپے رہ گیا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروبارانڈیکس کی بلند سطح 179,969 پوائنٹس اور کم ترین سطح 169,592پوائنٹس رہی۔اسٹاک مارکیٹ میں ہفتہ بھر میں زیاد سے زیادہ49ارب روپے مالیت کے 69کروڑ76لاکھ حصص کے سودے ہوئے جبکہ کم سے کم 23ارب روپے مالیت کے 53کروڑ76لاکھ حصص کے سودے ہوئے تھے۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ہفتہ وار کاروبار کے دوران مجموعی طور پر 2406 کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے 717کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ،1415میں کمی اور274کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔کاروبار کے لحاظ سے کے الیکٹرک لمیٹڈ ،ورلڈ کال ٹیلی کام ،بینک آف پنجاب ،ہم نیٹ ورک ،ٹرسٹ بروکریج ،فرسٹ نیشنل ایکوٹیز،بیکو اسٹیل لمیٹڈ ،نشاط چونیاں پاور،ہیسکول پیٹرول ،سنر جیکو پاک ،سوئی نادرن گیس ،نیشنل بینک ،پاک پیٹرولیم ،پی ٹی سی ایل ،ٹرسٹ سیکیورٹیز اوراینگرو پاور جین سر فہرست رہے۔

فروری کی رپورٹ کے مطابق عالمی حالات اور جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کوتاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی ایک روزہ مندی رونما ہوئی۔ جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3.74فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔کے ایس ای 100انڈیکس میں 6600پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی اورمارکیٹ 6نفسیاتی حدیں گنوا بیٹھی۔انڈیکس 178,800کی سطح سے گھٹ کر 172,100کی سطح پر بند ہوا۔مارکیٹ کے سرمائے میں 713ارب روپے کی کمی واقع ہوئی اور 79.50فیصد حصص کی قیمتیں بھی کم ہو گئیں۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں 100 انڈیکس کا آغاز ہی نمایاں مندی کے ساتھ ہوا، پورے دن معمولی ریکوری کے باوجود مسلسل گراوٹ کا رجحان برقرار رہا، خریدار مارکیٹ میں تیزی کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔ ٹریڈنگ کے آخری گھنٹوں میں فروخت کے دباؤ میں مزید شدت آگئی جس کے نتیجے میں انڈیکس 171,647 پوائنٹس کی پست سطح پر ٹریڈ ہوا۔ اسٹاک ماہرین کے مطابق جمعرات کوتاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی ایک روزہ مندی ہے۔ خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جس کی وجہ سے مارکیٹ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ دوسری جانب غیر ملکی سرمایہ کاروں کے علاوہ مقامی سرمایہ کاروں نے بھی محتاط رویہ اختیار کرلیا جو فروخت کے دباؤ میں اضافے کا باعث بنا۔ کاروبار کے دوران سیمنٹ، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں اور ریفائنریز کے شعبوں میں فروخت کا دبائو غالب رہا جس کی وجہ سے کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 6682 پوائنٹس کی کمی ہوئی اور انڈیکس178,853پوائنٹس سے کم ہو کر 172,170پوائنٹس پر بند ہوا۔ اسی طرح 2017پوائنٹس کی کمی سے کے ایس ای 30 انڈیکس 52,658 پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 107,335 پوائنٹس سے کم ہو کر 103,476 پوائنٹس پرآگیا۔ کاروباری مندی سے مارکیٹ کے سرمائے میں 713 ارب 6 کروڑ 57 لاکھ 73 ہزار 553 روپے کی کمی واقع ہوئی اور سرمائے کا مجموعی حجم 19514ارب14کروڑ39لاکھ44ہزار29روپے رہ گیا۔ اسٹاک مارکیٹ میں جمعرات کو 27ارب روپے مالیت کے 54 کروڑ 29 لاکھ حصص کے سودے ہوئے جبکہ بدھ کو 49ارب روپے مالیت کے 69کروڑ76لاکھ حصص کے سودے ہوئے تھے۔ اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ روز مجموعی طور پر 483کمپنیوں میں شیئرز کا کاروبار ہوا جس میں سے 32 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ، 384میں کمی اور67کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ کاروبار کے لحاظ سے ورلڈ کال ٹیلی کام،کے الیکٹرک لمیٹڈ، ٹرسٹ سیکورٹیز، بینک آف پنجاب اور ہیسکول پیٹرول سر فہرست رہے۔ قیمتوں میں اتار چڑھائو کے اعتبار سے داود لارنس لمیٹڈ کا بھائو25.88روپے بڑھ کر 668.89روپے ہو گیا۔ اسی طرح 20.90روپے کے اضافے سے شاہ مراد شوگر ملز لمیٹڈ کے حصص کی قیمت 399.93 روپے ہو گئی جبکہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کا بھائو1758.34روپے گھٹ کر 16576.66روپے ہو گیا اسی طرح 627.21روپے کی کمی سے یونی لیور پاکستان فوڈز لمیٹڈ کے حصص کی قیمت 26027.79روپے پر آگئی ۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ ، بلو چپ کمپنیوں کے مایوس کن مالی نتائج،سرمایہ کاری کا مسلسل انخلاء بڑی وجہ 80فیصد حصص کی قیمتیں کم،32کمپنیوں کے بھاؤمیں اضافہ، 384کا کم ، 100انڈیکس 172170پوائنٹس پر بندہوا۔

اسٹاک مارکیٹ میں رواں سال کی بدترین مندی کے سبب 80فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 7کھرب 13ارب روپے سے زائدڈوب گئے۔ تفصیلات کے مطابق عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ، بلو چپ کمپنیوں کے مایوس کن مالی نتائج اور مقامی و غیر مقامی سرمایہ کاری کا شیئرز مارکیٹ سے مسلسل انخلاء اسٹاک ایکسچینج کو 2026 کی سب سے بڑی بدترین مندی میں مبتلا کرگیا، دوران ٹریڈنگ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 7 ہزار سے زائد پوائنٹس شدید گراوٹ کا شکار ہوا اور یکے بعد دیگرے انڈیکس کی 1لاکھ 78ہزار،1لاکھ 77ہزار، 1لاکھ 76 ہزار، 1لاکھ 75ہزار، 1لاکھ 74ہزار اور1لاکھ 73ہزار پوائنٹس کی 6 سطحیں گرگئیں۔ رواں سال کی بدترین مندی کے سبب 80فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 7کھرب 13ارب روپے سے زائدڈوب گئے۔کاروبار کا آغاز 426پوائنٹس کی تیزی سے ہوا ،لیکن عالمی معاشی دباؤ اور امن و امان کی خراب صورتحال نے اسٹاک مارکیٹ کو آغاز کے بعد مسلسل مندی سے شدید مندی اور شدید مندی سے بدترین مندی میں مبتلا کیے رکھا۔

دوران ٹریڈنگ انڈیکس 7205پوائنٹس کی بدترین مندی سے انڈیکس کی 1لاکھ 72ہزار پوائنٹس کی سطح بھی گرگئی تھی تاہم اختتامی لمحات میں دوبارہ خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے مندی کی شدت میں قدرے کمی واقع ہوئی۔کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 6682اعشاریہ 81 پوائنٹس کی کمی سے 172170پوائنٹس پر بند ہوا، اسی طرح کے ایس ای 30انڈیکس 2017پوائنٹس کی کمی سے 52658پوائنٹس اور آل شیئرز انڈیکس 3859 پوائنٹس کی کمی سے 103476پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروباری حجم 22فیصد زائد رہا۔گزشتہ روز 54کروڑ 29لاکھ 79ہزار 519 حصص کے سودے ہوئے۔مجموعی طور پر 493 کمپنیوں کے حصص کاکاروبار ہوا، جس میں سے 32 کمپنیوں کے بھاؤمیں اضافہ، 384 میں کمی اور 67 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو شیئرز کی فروخت کا شدید ترین دباؤ غالب آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں6682 پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ گراوٹ3.74فیصد رہی۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکہ ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جس کی وجہ سے مارکیٹ مسلسل دباؤ کا شکار رہی اور مندی کی وجہ سے مارکیٹ سرمائے میں 7کھرب13ارب روپے سے زائد کا خسارہ ہوگیا جبکہ کاروباری حجم بھی بدھ کے مقابلے میں22.17فیصد کم رہا ۔معاشی تجزیہ نگاراورسابق نائب صدر ازیف پی سی سی آئی کیپٹن عبدالرشید ابڑو کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے علاوہ مقامی سرمایہ کاروں نے بھی محتاط رویہ اختیار کرلیا ہے جس کی وجہ سے شیئرز کی فروخت کے دباؤ میں اضافہ ہوا۔مارکیٹ میں اہم شعبوں میں فروخت کا رجحان دیکھا گیا جن میں سیمنٹ، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز)، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں اور ریفائنریاں شامل ہیں۔ انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے شیئرز جن میں اٹک ریفائنری (اے آر ایل)، حبکو ، ماری پٹرولیم ، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پول، پی ایس او ، ایس این جی پی ایل ، ایم سی بی ، میزان بینک اور نیشنل بینک بھی منفی زون میں دکھائی دیے۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں جمعرات کو کو کاروبار کا مثبت آغاز ہوااورایک موقع پر انڈیکس میں426پوائنٹس کی تیزی بھی دیکھی گئی اور انڈیکس179279پوائنٹس تک چلا گیا تاہم بعد ازاں منافع کے حصول کے لیے شیئرز کی فروخت نے مارکیٹ کو دھچکا پہنچایا اور تکنیکی کریکشن کے سبب مارکیٹ میں مسلسل گراوٹ رہی جس کی وجہ سے کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس میں 6682.81پوائنٹس گھٹ کر172170.29پوائنٹس پر بند ہوا۔ اسی طرح2017.91پوائنٹس کی کمی سے کے ایس ای 30 انڈیکس 52658.79 پوائنٹس، کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 3859.22 پوائنٹس خسارے سے103476.64 پوائنٹس اور کے ایم آئی30انڈیکس10109.65پوائنٹس گھٹ کر 240511.29 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ7کھرب13ارب 6کروڑ 57 لاکھ73ہزار553روپے گھٹ کر19514ارب14کروڑ 39 لاکھ 44 ہزار29روپے رہ گیا۔ پاکستان اسٹا ک ایکسچینج میںجمعرات کو27ارب روپے مالیت کے 54 کروڑ 29 لاکھ 79 ہزار 519 حصص کے سودے ہوئے جبکہ گزشتہ روز بدھ کو49ارب روپے مالیت کے69کروڑ76لاکھ 82ہزار 334 شیئرز کا کاروبار ہوا تھا۔ شیئرزمارکیٹ میں مجموعی طور پر483کمپنیوں میں شیئرز کا کاروبار ہوا جس میں سے32کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ،384میں کمی اور67کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔کاروبار کے لحاظ سے ورلڈ کال ٹیلی کام 8 کروڑ41لاکھ، کے الیکٹرک لمیٹڈ 6 انڈس موٹر کے بعد از ٹیکس منافع میں 28 فیصد اضافہ۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 4دن کے کاروبار کے دوران مارکیٹ کو شدید مالی بحران کا سامنا رہا۔ جس کی وجہ سے صرف چند دنوں کے دوران ملک بھر کے سرمایہ کاروں کو مالی بحران کا سامنا رہا۔ اس پوری صورت حال نے یہ بتادیا ہے کہ امریکا کی دوستی اور خطے میں جاری جنگ کی صورت حال میں پاکستان عدم استحکام،معاشی بحران اور دیگر خطرات کی زد میں رہے گا۔ اس سے نکلنا پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے لیے انتہائی اہم ہے اور جتنی جلد اس ماحول سے نکلنے میں کامیابی ہو گی معیشت بہتر سے بہتر ہوتی جائے گی۔

قاضی جاوید سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کی قیمتوں میں استحکام رہا پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج اسٹاک مارکیٹ میں ہفتہ لاکھ حصص کے سودے ہوئے کی کمی واقع ہوئی اور پوائنٹس پر بند ہوا کے ایس ای 100 انڈیکس کرنے والی کمپنیاں پوائنٹس کی کمی سے ا ل شیئرز انڈیکس سرمایہ کاروں کے کا کاروبار ہوا فروخت کے دباو روپے مالیت کے میں جمعرات کو پوائنٹس اور جس کی وجہ سے میں کمی اور روپے کی کمی کاروبار کے پوائنٹس سے انڈیکس میں بڑھتی ہوئی میں اضافہ سے مارکیٹ مارکیٹ کو صورت حال کے مطابق کے دوران مندی کی مندی کے گھٹ کر کی سطح

پڑھیں:

فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔

ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟ 

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟