کراچی؛ گیس سلنڈر دھماکے سے رہائشی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی، ایک فرد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
کراچی؛ گیس سلنڈر دھماکے سے رہائشی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی، ایک فرد جاں بحق WhatsAppFacebookTwitter 0 22 February, 2026 سب نیوز
کراچی (آئی پی اسی) کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد، بلاک ڈی فائیو اسٹار چورنگی کے قریب واقع بسم اللہ ریزیڈنسی میں رہائشی فلیٹ میں گیس سلنڈر کے دھماکے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جس میں ایک لڑکا ہلاک اور دو شدید زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق دھماکے کی زوردار آواز کے بعد عمارت میں رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اطلاع ملتے ہی تھانہ نارتھ ناظم آباد پولیس موقع پر پہنچا اور حفاظتی اقدامات شروع کیے، جبکہ فائر اینڈ ریسکیو ٹیم اور ایمبولینسز کو بھی طلب کیا گیا۔
فائر بریگیڈ کی دو گاڑیاں اور ایک باؤزر آگ بجھانے کے لیے تعینات کیے گئے، اور عمارت میں موجود رہائشیوں کی محفوظ منتقلی کا عمل جاری ہے۔
واقعے میں ایک لڑکا جاں بحق ہوا جبکہ 2 افراد کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ سیلنڈر دھماکے کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا، 2 کلومیٹر دور سے دھماکے کی آواز سنی گئی۔
زخمی ہونے والوں میں تسلیم 90 فیصد اور حنین نامی شخص 80 فیصد تک جھلس گئے ہیں۔ دونوں کو تشویشناک حالت میں سول برنس وارڈ منتقل کیا گیا۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے فوری طور پر پولیس حکام کو جائے وقوعہ پر پہنچنے اور ریسکیو آپریشن کی نگرانی کرنے کا حکم دیا، جبکہ متاثرہ عمارت اور اطراف کے علاقوں کو محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی اقدامات یقینی بنائے گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ گیس کے اخراج کی وجہ سے ہوا۔ شواہد اکٹھے کرنے کے بعد آگ لگنے کی مکمل وجوہات کا تعین کیا جائے گا۔ آگ پر ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی کے باعث قابو پالیا گیا جبکہ کولنگ اور سرچ آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔
واقعے پر میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ افسوسناک واقعے پر شہریوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جاں بحق فرد کے لواحقین اور زخمی ہونے والوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت پیش کرتے ہیں۔ زخمیوں کو فوری اور معیاری طبی امداد فراہم کی جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرافغانستان میں بروقت مؤثر کارروائی معصوم جانوں کا بدلہ ہے: طارق فضل چودھری افغانستان میں بروقت مؤثر کارروائی معصوم جانوں کا بدلہ ہے: طارق فضل چودھری پاکستانی فضائیہ نے افغانستان میں دہشت گردوں کے 7 ٹھکانے ملیامیٹ کر دیے پاکستان کی افغانستان میں کارروائی، دہشتگردوں کے 7 ٹھکانے تباہ کر دیے علیمہ خان نے پی ٹی آئی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا: شیر افضل مروت امریکا اور ایران آمنے سامنے: ٹرمپ کی فوجی تیاریوں اور سخت دھمکیوں کے بعد خطہ بڑی جنگ کے دہانے پرپہنچ گیا پاکستان کے ذمہ قرض اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے بڑھ گیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔