جدہ (امیرمحمد خان سے)جدہ میں پاکستانی میڈیا کے رضاکارانہ اور قدیم فورم پاکستان جرنلسٹس فورم نے سعودی عرب کے 299 ویں یوم تاسیس کے حوالے سے ایک ویب اجلاس منعقد کیا جسکا موضوع ”یومِ تاسیسِ سعودی عرب اور ویژن 2030: تاریخ، شناخت اور روشن مستقبل تھا، فورم کے اراکین نے اظہار خیال کرتے ہوئے سعودی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا کہ آج سعودی عرب اپنے اکابرین اور تاریخی ورثہ کے حوالے سے ہر دنیا میں ترقی کے منزال بخوبی عبور کررہا ہے اظہار خیال کرنے والوں کا کہنا تھا سعودی عرب آج شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمدسلمان بن عبدالعزیز کی ولولہ انگیز قیادت میں ترقی کی بلندیوں پر ہے اور عالم اسلام کی رہنمائی کررہا ہے، فورم کے صدر معروف حسین، جنرل سیکریڑی جمیل راٹھو، خالد چیمہ، نے اظہار خیال کرتے ہوئے یوم تاسیس کی تاریخ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن ہر سال ہر سال 22فروری کو منایا جاتا ہے، جو 1727ء میں *درعیہ* میں پہلی سعودی ریاست کے قیام کی یادگار ہے۔ یہ دن نہ صرف ماضی کی عظمت کو یاد دلاتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے امید اور عزم کا پیغام بھی دیتا ہے۔فورم کے چئیرمین امیر محمد خان نے کہا کہ آج جب سعودی عرب ویژن 2030 کے تحت نئے دور میں قدم بڑھا رہا ہے، یومِ تاسیس کی معنویت مزید گہری ہو گئی ہے۔انہوں نے یوم تاسیس کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ 1727ء میں امام محمد بن سعود نے پہلی بار ایک متحد اور مضبوط ریاست کی بنیاد رکھی۔ اس ریاست نے نہ صرف جزیرہ نما عرب میں امن و استحکام قائم کیا بلکہ اسلامی ثقافت، تعلیم اور تجارت کو فروغ دیا۔یہ تاریخ سعودی عوام کے لیے فخر، اتحاد اور قومی شناخت کی علامت ہے۔فورم کے ارکیں سعودی عر ب کی حالیہ قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ولی عہد محمد سلمان کا ویثرن 2030ء سعودی عرب کے ایک نئے عہد کا آغاز ہے ولی عہد قیادت میں ویثرن کا مقصد ملک کو اقتصادی، سماجی اور ثقافتی اعتبار سے ایک متنوع اور مستقبل بین ریاست میں تبدیل کرنا ہے۔ ویژن 2030 تین بنیادی ستونوں پر مبنی ہے اقتصادی ترقی، سماجی ترقی، تیل پر انحصار کم، تعلیم و عوام کی صحت کی سہولیات اور ثقافت کے ذریعے سعودی عرب کو دنیا کے قریب لانا ہے، فورم نے سعودی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا کہ جو سہولیات وہ اپنے عوام کوپہنچا رہی ہے اسی طرح یہاں موجود بڑی تعداد میں دیگر غیر سعودی جو سعودی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں انہیں بھی مساوی سہولیت میسر ہیں۔زوم اجلاس میں شاہد نعیم، معروف حسین، جمیل راٹھور، خالد
چیمہ، ذکیر بھٹی، امانت اللہ، اسد اکرم، مریم شاہد، عالیہ خان، جاوید راہو، عامل عثمانی، اور فوزیہ خان نے شرکت کی۔آخر میں شرکاء نے سعودی عرب کی ترقی اور پاک سعودی کی مضبوطی کی دعا کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے فورم کے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار