ٹی 20 ورلڈکپ: پاکستان کیسے سیمی فائنل میں پہنچ سکتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر 8 مرحلے میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ بارش کی نذر ہو جانے کے بعد گروپ میں ہر مقابلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
پاکستان سپر 8 میں گروپ 2 میں سری لنکا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے ساتھ شامل ہے۔ بارش کے باعث میچ منسوخ ہونے پر پاکستان اور نیوزی لینڈ کو ایک ایک پوائنٹ ملا۔
اگر پاکستان سیمی فائنل تک رسائی چاہتا ہے اور نیٹ رن ریٹ پر انحصار نہیں کرنا چاہتا تو اسے اپنے باقی دونوں میچز (انگلینڈ اور سری لنکا) جیتنے ہوں گے۔ دونوں میچز جیتنے کی صورت میں پاکستان کے پاس 5 پوائنٹس ہوں گے اور گرین شرٹس کی سیمی فائنل میں رسائی تقریباً یقینی ہو جائے گی۔
دوسرے منظرنامے میں اگر پاکستان ایک میچ جیتتا اور ایک ہارتا ہے تو اس کی قسمت دیگر میچوں کے نتائج اور نیٹ رن ریٹ پر منحصر ہوگی۔
لیکن اگر پاکستان اپنے دونوں باقی میچز ہار گیا تو وہ صرف ایک پوائنٹ کے ساتھ براہِ راست ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے گا۔
نیوزی لینڈ کے خلاف میچ منسوخ ہونے کے بعد گروپ میں ہر مقابلہ ناک آؤٹ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور غلطی کی گنجائش تقریباً ختم ہو گئی ہے۔
تاہم 22 فروری کو سری لنکا اور انگلینڈ کے درمیان میچ کے بعد صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیوزی لینڈ لینڈ کے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند