سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود ٹرمپ کا بڑا اعلان، عالمی ٹیرف 15 فیصد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی تجارتی محصولات (ٹیرف) 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اعلان امریکی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد سامنے آیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ بطور صدر وہ دنیا بھر کے ممالک پر عائد 10 فیصد عالمی ٹیرف کو بڑھا کر 15 فیصد کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی ممالک دہائیوں سے امریکا کا معاشی استحصال کرتے آئے ہیں، اس لیے ان کی انتظامیہ آئندہ مہینوں میں قانونی تقاضوں کے مطابق نئے اور قابلِ اجازت ٹیرف کا تعین کرے گی۔
واضح رہے کہ جمعہ کو امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ممالک پر عائد صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جس قانون کے تحت یہ ٹیرف لگائے گئے وہ قومی ایمرجنسی کے لیے بنایا گیا تھا اور اس قانون کے تحت اضافی محصولات عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنے اختیارات کے تحت اقدامات کر سکتے ہیں اور ممالک کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صدر نے فوری طور پر تمام ممالک پر 10 فیصد ٹیرف نافذ کر دیا تھا، جسے اب بڑھا کر 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ فیصد کر
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔